خودکشی کے رحجان کو کم کرنے کیلئے اسلام کو سمجھنا ہوگا،طبی ماہرین

34
نیورولوجی اویئرنس اینڈ ریسرچ فاؤنڈیشن (نارف) کے زیراہتمام ذہنی صحت کے عالمی دن پر ڈاکٹر محمد واسع شاکر و دیگر پریس کانفرنس کر رہے ہیں
نیورولوجی اویئرنس اینڈ ریسرچ فاؤنڈیشن (نارف) کے زیراہتمام ذہنی صحت کے عالمی دن پر ڈاکٹر محمد واسع شاکر و دیگر پریس کانفرنس کر رہے ہیں

کراچی(اسٹاف رپورٹر) نیورولوجی اویئرنس اینڈ ریسرچ فائونڈیشن (نارف) کے زیراہتمام ذہنی صحت کے عالمی دن کے موقع پر پریس بریفنگ سے خطاب کرتے ہوئے نیورولوجی اویئرنس اینڈ ریسرچ فائونڈیشن کے صدر پروفیسر ڈاکٹر محمد واسع شاکر نے کہا کہ خودکشی کی سب سے بڑی وجہ مذہب سے دوری بھی ہے، ہم آج کل اپنے بچوں کو صحیح طرح دین کی تعلیم دے ہی نہیں پا رہے، ہم اپنے بچوں کو سمجھا ہی نہیں پا رہے کہ دین اسلام میں خودکشی اور نا امیدی کتنا بڑا گناہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ذہنی امراض کا مسئلہ تمام ممالک کے لیے یکساں اہمیت کا حامل ہے کیوں کہ اس کی وجہ سے مختلف مسائل سامنے آتے ہیں، جن میں پست معیارِ زندگی، معاشرتی محرومیاں وغیرہ شامل ہیں، اسی لیے دنیا میں ہر40 سیکنڈ میں ایک فرد خودکشی کرتا ہے، پاکستان میں خودکشی کرنے والے افراد کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے جن میں پاکستانی خواتین میں خودکشی کی شرح میں اضافہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ معاشرے میں پھیلی نا انصافی، افراتفری، بے راہ روی، مایوسی، عدم اعتماد، غربت، مشتر کہ خاندانی نظام کا تنزلی کی جانب سفر، بے روزگاری، احساس محرومی و برتری، تشدد، دماغی اور نفسیاتی عوارض و انتشار، طلبہ میں غیر ضروری تعلیمی مسابقت کی دوڑ کے باعث ’’ذہنی دباؤ‘‘ مقابلے کی رسہ کشی خود کشی کے خاص اسباب ہیں، اس کے علاوہ جدیدیت کے باعث معاشی ترقی کے حصول کی وجہ سے ذہنی امراض اور پھر ان سے عدم توجہی خود کشی کی جانب راغب کرنے والے عوامل ہیں۔ ماہرین نے کہا کہ پاکستان میں بڑھتا ہوا خودکشی کا رجحان ایک سنجیدہ مسئلہ بن چکا ہے جس کی وجوہ میں سماجی دباؤ، ڈپریشن، خود اعتمادی میں کمی، غربت اور نوعمری کی محبت ہے جب کہ دوسری وجہ تعلیمی دباؤ ہے، والدین اور اساتذہ کی طرف سے بچوں پر تعلیمی دباؤ انہیں ڈپریشن میں مبتلا کر دیتا ہے جس کی وجہ سے کئی بچے خودکشی کر چکے ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ ہر تیسرا پاکستانی ڈپریشن کا شکار ہے، دوسری جانب ملک میں ڈپریشن کا علاج کرنے والے ماہرین نفسیات کی تعداد انتہائی کم ہے۔ پروفیسر ڈاکٹر محمد واسع شاکر کا کہنا تھا کہ کراچی میں دیگر شہروں کے مقابلے میں ذہنی صحت کے مسائل زیادہ پیدا ہوئے، عالمی سروے کے مطابق ہر چوتھا فرد اور ہر دسواں بچہ ذہنی صحت کے مسائل سے دوچار ہے، صرف کراچی میں50 لاکھ سے زائد افراد نفسیاتی مسائل کا سامنا کر رہے ہیں جن میں ’’انگزائٹی‘‘ اور ’’ڈپریشن‘‘ سرفہرست ہیں۔ پروفیسر ڈاکٹر اقبال آفریدی نے کہا کہ پاکستان میں مریضوں کی سائیکو تھراپی اورکونسلنگ کی سہولیات مطلوبہ تعداد میں موجود نہیں ہیں۔ہمارے معاشرے میں خودکشی کا بڑھتا ہوا رجحان ایک خطرناک علامت ہے، خودکشی پر آمادہ لوگوں کی کونسلنگ ہو سکتی ہے، یوں مرض کی روک تھام ممکن ہے۔