کراچی سے خطرناک شہرکادھبہ ہٹ گیاہے‘آئی جی سندھ

25

کراچی(اسٹاف رپورٹر)آئی جی سندھ پولیس ڈاکٹر کلیم امام نے 2013 ء اور 2019 ء میں کراچی کے حالات کا موازنہ کیا ہے، جس کے مطابق کراچی اب مزید خطرناک نہیں رہا ہے۔انسپکٹر جنرل سندھ پولیس ڈاکٹر کلیم امام نے وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ کراچی میں 2013 ء میں 503 ٹارگٹ کلنگ کے واقعات ہوئے جبکہ 2019 ء میں 15 کیسز ہوئے ہیں۔ گاڑیوں کا چھیننا 2013 ء میں 891 اور اب 2019 ء میں 181 ہے۔انہوں نے کہا کہ 2013 میں کراچی خطرناک شہر ڈکلیئر ہوا تھا لیکن اب یہ داغ کراچی سے ہٹ گیا ہے۔آئی جی سندھ پولیس کا کہنا ہے کہ ٹارگٹڈ آپریشن کی وجہ سے 800 عسکریت پسندوں نے ہتھیار ڈالے ہیں۔ 2013 سے اب تک 584 پولیس اہلکاروں نے شہادت پائی ہے۔انہوں نے کہا کہ سندھ پولیس میں بہترین ٹریننگ، بہترین تنخواہیں اور دیگر فوائد متعارف کروائے ہیں۔ اس کے علاوہ پولیس فنڈز بہترین طریقے سے استعمال کرنے کے لیے ڈائریکٹ آڈٹ تعینات کرنے جا رہے ہیں۔علاوہ ازیںڈرائیونگ لائسنس کے حصول میں شہریوں کو مبینہ پریشانی اور مشکلات کے حوالے سے اخبارات میں شائع ہونیوالی خبر پر آئی جی سندھ ڈاکٹرسید کلیم امام نے ڈی آئی جی ڈرائیونگ لائسنس سندھ سے خبر کے مندرجات پر تفصیلی رپورٹ فی الفور طلب کرلی ہے ۔دریںاثناکلفٹن میں دوہرے قتل کے معاملہ پرآئی جی سندھ نے ایس ایس ایس پی ساؤتھ سے تفصیلات طلب کرلی ہیں۔