وزیراعظم دوسرے ممالک میں اپنی قوم کو چور کہتے ہیں، سراج الحق

106
امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق پھالیہ میں شمولیتی کنونشن سے خطاب کررہے ہیں
امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق پھالیہ میں شمولیتی کنونشن سے خطاب کررہے ہیں

لاہور(نمائندہ جسارت) امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہاہے کہ چین میں وزیراعظم کا 500 کرپٹ لوگوں کو پکڑنے میں بے بسی کا بیان اس بات کا اظہار ہے کہ میں بے اختیار ہوں اور میں کرپشن کے خلاف کچھ نہیں کر سکتا ۔ وزیراعظم دوسرے ملکوں میں جاکر کہتے ہیں کہ میری قوم چور، بد دیانت اور کرپٹ ہے ۔ ملک کی عزت و وقار کے خلاف باتیں کر کے وزیراعظم کس کو خوش کررہے ہیں ۔ کتنی کمزور سوچ ہے ایک مسلم ریاست کا حکمران جس نے اسلام کا پیغام دنیا کو دینا تھا ، وہ غیر مسلموں کو اپنے لیے نمونہ قرار دے رہے ہیں ۔اللہ تعالیٰ نے ہر مسلمان کے لیے نبی آخر الزمان حضرت محمد ؐ کی زندگی کو بہترین نمونہ قرار دیاہے ۔ ان خیالات کااظہار انہوں نے پھالیہ میں شمولیتی کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ کنونشن سے نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان میاں محمد اسلم ، امیر جماعت اسلامی صوبہ شمالی پنجاب ڈاکٹر طارق سلیم ، چودھری ریاض فاروق ساہی اور جے آئی یوتھ کے صدر زبیر احمد گوندل نے بھی خطاب کیا ۔اس موقع پر سیکڑوں لوگوں نے مختلف سیاسی جماعتوں کو چھوڑ کر جماعت اسلامی میں شمولیت کا اعلان کیا ۔سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ قوم کارخانے چاہتی ہے اور حکومت لنگر خانے بناتی ہے تاکہ لوگ قطاروں میں کھڑے ہو کر لنگر کھائیں اور اس نااہل حکومت کے کارنامے بیان کریں ۔ انہوں نے کہاکہ لوگوں کو بھکاری بنانے کے بجائے انہیں اپنے پائوں پر کھڑا کرنے اور عزت کی روٹی کمانے کا موقع دینے کی ضرورت ہے ۔ حکومت لوگوں کو این جی اوز کا محتاج نہ بنائے ۔ ہم دوسروں کو کھلانا اور دنیا کی قیادت کرنا چاہتے ہیں ۔ ایٹمی ملک کو روانڈا اور افریقہ کی طرح قحط زدہ نہ بنائیں ۔ سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ کشمیر پاکستان کے لیے زندگی اور موت کا مسئلہ ہے ۔ کشمیری 66 دن سے تڑپ رہے ہیں اور پاکستان کی طرف دیکھ رہے ہیں ۔ انہوںنے کہاکہ قوم سمجھتی تھی کہ وزیراعظم کشمیر پر کوئی عملی قدم اٹھانے کے لیے چین سے مدد لینے گئے مگر وہاں انہوںنے کوئی نئی بات نہیں کی ۔ حکمرانوں کے رویے سے لگتاہے کہ انہوںنے کشمیر کا مسئلہ دوبارہ سرد خانے میں ڈال دیاہے ۔ انہوںنے کہاکہ حکومت ہر روز مدرسوں کو ٹھیک کرنے کی باتیں کر تی ہے میں کہتاہوں کہ پہلے معیشت ، صنعت اور زراعت کو ٹھیک کرلیں ، عدالتوں اوراسپتالوں کو ٹھیک کریں تاکہ عوام کی پریشانی میں کمی ہو ۔سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ اسٹیٹ بینک کی رپورٹ کے مطابق حکومت نے ایک سال کے عرصے میں سب سے زیادہ قرضے لیے ہیں۔ دنیا میں سال میں ایک مرتبہ چیزوں کی قیمتیں بڑھتی ہیں جبکہ موجودہ حکومت 4،4 مرتبہ قیمتیں بڑھا رہی ہیں ۔ 200 فیصد اضافے کے باوجود آج پھر ادویات کی قیمتوں میں اضافہ کردیا گیاہے ۔ انہوں نے کہاکہ ملک میں 61 فیصد غیر آباد زمینوں کو آباد کر کے قومی پیداوار کو ڈیڑھ سوگنا تک بڑھایا جاسکتاہے ۔ حکومت غیر آباد زمینوں کو آباد کرنے کے لیے کسانوں میں تقسیم کرے ۔ لوگوں کو نہ صرف کاشتکاری کرنے کے لیے زمین ملے گی بلکہ گھر بنانے کے لیے بھی جگہ ملے گی۔ انہوںنے کہاکہ حکمران کہتے تھے کہ ہم لوگوں کو دیسی انڈے اور مرغی دیں گے ، آج حکومت نے برائلر مرغی کی قیمت میں 35 فیصد اور انڈے کی قیمت میں 14 فیصد اضافہ کردیاہے اور اس مہنگائی نے سب سے زیادہ غریب اور سفید پوش طبقے کو متاثر کیاہے ۔ لوگوں کے لیے اب سفید پوشی کا بھرم رکھنا بھی مشکل ہوگیاہے ۔ آج صورتحال یہ ہے کہ خطے کے بھوٹان ، سری لنکا اور نیپال جیسے چھوٹے ملک بھی معیشت کے میدان میں پاکستان سے آگے نکل گئے ہیں ۔ بنگلا دیش کا ٹکہ بھی اب ہمارے روپے کو ٹکے ٹکے کی باتیں سنا رہاہے ۔انہوںنے کہاکہ ملک کی تقدیر عوام کے ہاتھ میں ہے ۔ عوام اچھی قیادت کا انتخاب کریں تو اللہ تعالیٰ ملک و قوم کے تمام مسائل حل کر دے گا ۔