مسئلہ کشمیر حل نہ کیا گیا تو ایٹمی جنگ یقینی ہے، وزیراعظم آزاد کشمیر

83

اسلام آباد (صباح نیوز) صدر آزاد جموں کشمیر سردار مسعو خان نے کہا ہے کہ اگر مسئلہ کشمیر حل نہ کیا گیا تو ایٹمی جنگ یقینی ہے، تمام معاملات کو ریاست کی ذمے داری سمجھنے کے بجائے نوجوان اپنا کردار ادا کریں، بھارت کو سفارتی محاذ پر پسپائی کا سامنا ہو رہا ہے اور اس سلسلے میں عمران خان کا کردار قابل ستائش ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے میثاق ریسرچ سینٹر کے زیر اہتمام علاقائی سیکورٹی اور مسئلہ کشمیر کے عنوان سے ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ کانفرنس میں مختلف اسکالرز، دانشوروں، سفارتکاروں، وکلا اور تجزیہ نگاروں نے شرکت کی۔ ڈائریکٹر جنرل میثاق ریسرچ سینٹر محمد عبداللہ حمید گل نے کانفرنس کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ آج اگر اس مسئلہ کشمیر کو حل نہ کیا گیا تو یہ مسئلہ ہمیشہ کیلیے سرد خانے میں چلا جائے گا۔ اس وقت امریکا کو افغانستان سے انخلا کیلیے پاکستان کی جتنی ضرورت ہے اتنی ماضی میں کبھی نہیں رہی۔ دنیا کو ہمیں یہ باور کروانا ہوگا کہ دنیا کا امن مسئلہ کشمیر کی وجہ سے خطرے میں ہے۔ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور علی محمد خان نے کہا کہ ہماری منزل سری نگر نہیں بلکہ لال قلعہ ہے اور میں نریندر مودی کو بتانا چاہتا ہوں کہ پاکستانی عوام کا ہر فرد پاک فوج کا سپاہی ہے۔ میں ڈونلڈ ٹرمپ کو یاد دلانا چاہتا ہوں کہ اسی نریندر مودی کو امریکا نے مسلمانوں کے قتل عام پر ویزا جاری نہیں کیا تھا۔ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سینیٹ میں قائد اعوان سینیٹر شبلی فراز کا کہنا تھا کہ ہم کشمیر کیلیے آخری حد تک جائیں گے اور وزیراعظم پاکستان کی اس سلسلے میں پالیسی واضح ہے اور ہم کشمیری عوام کو حق خودارادیت ملنے تک چین سے نہیں بیٹھیں گے۔