(ن)لیگی رہنماؤں کی اکثریت کی آزادی مارچ میں شرکت کی حمایت

58

لاہور،اسلام آباد(نمائندہ جسارت+ اے پی پی) پاکستان مسلم لیگ(ن) نے آزادی مارچ میں شرکت کے بارے میں رہبر کمیٹی کے حالیہ فیصلے اور4 نکات پر مشتمل چارٹر آف ڈیمانڈ کی توثیق کر دی۔پارٹی کے سیکرٹری جنرل احسن اقبال نے کہا ہے کہ مولانا فضل الرحمن کے آزادی مارچ کی تاریخ سے متعلق پارٹی نے اپنی سفارشات تیار کرلی ہیں، پارٹی صدر شہباز شریف پارٹی کی سفارشات پارٹی قائد نواز شریف تک پہنچائیں گے جو حتمی فیصلہ کریںگے، نوازشریف کے فیصلے سے میڈیا کوآگاہ کر دیا جائے گا۔ وزیراعظم عمران خان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دنیا کا کوئی سربراہ بیرون ملک جا کر یہ نہیں کہتا ہمارا ملک کرپٹ ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کو لاہور میں لیگی اجلاس کے بعد میڈیا بریفنگ میںکیا۔پارٹی کا مشاورتی اجلاس پارٹی صدر شہباز شریف کی زیر صدارت ماڈل ٹاؤن میں ہوا۔لیگی رہنماؤں کی اکثریت نے مولانا فضل الرحمن کے آزادی مارچ میں شرکت کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ صورتحال میں اگر مولانا فضل الرحمن کا ساتھ نہ دیا تو عوامی غیض و غضب کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ مولانا فضل الرحمن کے لانگ مارچ سمیت تمام آئینی مطالبات کے لیے ان کے ساتھ کھڑے ہوں گے ۔سردارایاز صادق نے پیپلزپارٹی سمیت دیگر اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ رابطوں اور ملاقاتوں کے حوالے سے آگاہ کیا۔ پارٹی اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ اپوزیشن کی دیگر جماعتوں کے ساتھ ایک بار پھر رابطے تیز کرنے اور آزادی مارچ کے مطالبات کی تیاری کے لیے پیپلزپارٹی سمیت اپوزیشن جماعتوں سے مشاورت بھی کی جائے گی جبکہ آزادی مارچ پر تجاویز اور حتمی فیصلے کے لیے کوٹ لکھپت جیل میں نواز شریف کو شہباز شریف آگاہ کریں گے ۔ اجلاس میں آزادی مارچ کو روکنے کے لیے حکومتی کریک ڈاؤن پر بھی لائحہ عمل طے کیا گیا ۔علاوہ ازیںپاکستان مسلم لیگ (ن) کی مرکزی ترجمان مریم اورنگزیب نیمیڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ بات طے ہے کہ وزیراعظم کی تبدیلی تک ملک کے حالات بہتر نہیں ہوں گے،تحریک انصاف کی حکومت اپوزیشن کو بدترین سیاسی انتقام کا نشانہ بنا رہی ہے، رانا ثنا اللہ پر انتہائی بھونڈا الزام لگایا گیا، سیف سٹی اتھارٹی کے کیمروں نے جھوٹی ایف آئی آر کا پول کھول دیا،ملک کو گروی رکھ دیا گیا ہے،ملک کوحکومت نہیں آئی ایم ایف چلا رہا ہے، اب انہیں این آر او ملے گا نہ ہی کوئی ڈھیل ہو گی، نیب آج تک (ن) لیگی قائدین پر کرپشن کا الزام ثابت نہیں کرسکی، ایک خاص ایجنڈے کے تحت سب پر کیس ذاتی کاروبار کے ہی بنائے گئے ہیں ،سلیکٹڈ وزیر اعظم عوام کی ترجمانی نہیں کر سکتے،مولانا فضل الرحمن کے موقف کی تمام جماعتیں حمایت کر رہی ہیں۔دوسری جانب تحریک انصاف کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات احمد جواد نیمسلم لیگ (ن) کی رہنما مریم اورنگزیب کے بیان پر اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ سماجی بہبود کے کاموں کا مذاق اڑانا (ن) لیگ کا پرانا وطیرہ ہے، اس ٹولے نے شوکت خانم جیسے ادارے کو معاف نہیں کیا لنگر خانے ان کے شر سے کیسے بچیں گے، کروڑوں لوگوں کا رزق اپنی تجوریوں میں بھرنے والا بے رحم ٹولہ ’لنگر‘ کے اجراء پر سیخ پا ہو رہا ہے۔