خودکش دھماکے میں ملوث ملزم سپریم کورٹ سے بری

110

سپریم کورٹ نے 2007 میں راولپنڈی میں ہونے والے خودکش حملے میں ملوث ملزم عدیل خان کو بری کردیا۔

سپریم کورٹ میں راولپنڈی کی قاسم مارکیٹ میں ہونے والےخودکش دھماکہ کیس کی سماعت ہوئی،سماعت کے دوران ویڈیو لنک کے ذریعے لاہور رجسٹری سے وکلا نے دلائل دیے۔ سرکاری وکیل نےدلائل دیتے ہوئے کہاکہ دھماکہ عام نہیں ٹارگٹڈ تھا، 3 آدمی کار میں آئے ایک بس میں داخل ہوا 2 واپس چلے گئے،جب کار واپس چلی گئی تو بس میں دھماکہ ہوگیا۔

جسٹس سردار طارق محمود نےاستفسار کیا کہ11 ماہ تک رینٹ پر گاڑی لینے والے کا نام سامنے کیوں نہیں آیا، پولیس کو نام معلوم تھا تو ملزم کو گرفتار کیوں نہیں کیا گیا؟سرکاری وکیل نے بتایا کہ 11 ماہ تک ملزم کی تلاش جاری رہی، جس پر جسٹس طارق محمود نے کہا کہ ملزم کا نام تو 11 ماہ ریکارڈ پر آیا ہی نہیں۔ پھر کیسے کہہ رہے ہیں کہ اس کی تلاش جاری تھی؟۔

وکیل امجد رفیق نے کہا کہ اس کیس کو عام کیس کی طرح نہ دیکھا جائے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ آپ نے بڑا بیان دیا کہ کیس کو عام قانون کی طرح نہ پرکھیں، جو قانون موجود ہے وہ سب کے لیے برابر ہے۔ ہم نے اسی قانون کے مطابق سب کے فیصلے کرنے ہیں، کسی کے لیے مخصوص قانون چاہتے ہیں تو قانون سازی کروائیں۔

انہوں نے کہا کہ حملے میں قیمتی جانیں چلی گئیں، سرکار نے اچھا کیس نہیں بنایا، قانون کے مطابق شہادت نہ ہو تو ہم کیا کریں؟ ملوث ہونے میں ثابت کرنے کے لیے کچھ تو شہادت چاہیئے، اتنے بڑے کیس میں اتنی کمزور شہادت لائی گئی۔

انہوں نے مزید کہا کہ اسی معاشرے میں رہتے ہیں ہمارے عزیزوں کے ساتھ ایسا ہی ہوتا ہے، ایسا ہوتا ہے تو بہت تکلیف ہوتی ہے مگر حلف یاد آتا ہے کہ ہم نے اللہ کے سامنے جوابدہ ہونا ہے کہ قانون کے مطابق فیصلہ کیا یا نہیں۔ ملزم کا کسی دہشت گرد تنظیم سے تعلق بھی ثابت نہیں ہوا۔

بعد ازاں عدالت نے دلائل سننے کے بعد ملزم کی سزا کو کالعدم قرار دیتے ہوئے عدیل خان کو بری کرنے کا حکم دے دیا۔

خیال رہے کہ سنہ 2007 میں راولپنڈی میں ہونے والے خودکش حملے میں متعدد افراد شہید اور زخمی ہوئے تھے، ملزم عمر عدیل خان پر خود کش بمبار کی معاونت کا الزام تھا۔

ملزم عدیل خان کو ٹرائل کورٹ نے 20 بار پھانسی کی سزا سنائی تھی، اپیل پر لاہور ہائیکورٹ نے ٹرائل کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھاتھا۔