جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف حکومت کا جواب داخل

80

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس کے معاملے پر حکو مت کی جانب سے اٹارنی جنرل انور منصور خان نے اپنا جواب سپریم کورٹ میں جمع کرا دیا۔

 جس میں اٹارنی جنرل آف پاکستان انور منصور خان نے سپریم کورٹ کے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ پر سنگین نوعیت کے الزامات عائد کئے ہیں.

جواب میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے بچے اُن کے بے نامی دار ہیں جبکہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ جائیداد خریدنے کے ذرائع بتانے سے گریز کر رہے ہیں۔

انور منصور خان نے جواب میں مزید کہا کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی درخواست قابل سماعت نہیں اور اُن کے الزامات محض مفروضوں پر مبنی ہیں۔

انہوں نے اپنے جواب میں لکھا کہ احتساب اور شفافیت جمہوریت کا حصہ ہے اور جج سمیت کوئی بھی شخص احتساب سے بالاتر نہیں ہے۔

اٹارنی جنرل نے سپریم کورٹ میں جمع کرائے گئے جواب میں مزید موقف اختیار کیا ہے کہ صدر اور وزیراعظم کو اپنی ذمہ داریوں پر آئین کے آرٹیکل 248 کے تحت استثنیٰ حاصل ہے۔