لائف گارڈ کی ذمہ داری اس وقت سے شروع ہوجاتی ہے جب سیاح ساحل پر قدم رکھتے ہیں، سید محمد احسان

127

کراچی(رپورٹ:منیرعقیل انصاری) کراچی کی ساحلی پٹی پر تفریحی مقامات کراچی کے ڈھائی کروڑ شہریوں اور ملک بھر سے آنے والے سیاحوں کی دلچسپی کا مرکز ہیں،پاکستان لائف سیونگ فاؤنڈیشن انسانی جانوں کے تحفظ کے لیے کوشاں ہے، لائف گارڈ کی ذمہ داری اس وقت سے شروع ہوجاتی ہے جب سیاح ساحل پر قدم رکھتے ہیں،

ساحل سمندر پر لوگوں کی زندگیاں بچانے کے لئے قائم ہونے والا ادارہ پاکستان لائف سیونگ فاؤنڈیشن نے اپنے قیام سے اب تک کراچی کے ساحلوں پر 5 ہزار سے زائد لوگوں کی زندگیاں بچانے میں اہم کردار ادا کیا ہے،70 لاکھ سے زائد حفاظتی اقدامات منعقد کرچکا ہے 6 ہزار سے زائد لوگوں کوابتدائی طبی امدادفراہم کی جا چکی ہے،

ہر سال کراچی کے ساحلوں پر آنے والے 80 لاکھ سے زائد لوگوں کو ساحل سمند رپر تحفظ فراہم کرنے کے حوالے سے معلومات دی جاتی ہیں، پاکستان لائف سیونگ فاؤنڈیشن کے تربیت یافتہ لائف گارڈ کے بدولت عوام میں احساس تحفظ پیدا ہوا ہے،ان خیالات کا اظہار پاکستان لائف سیونگ فاؤنڈیشن کے ایڈمنسٹر یٹر سید محمد احسان نے بدھ کے روز سینڈز پٹ میں قائم(پالس) کے مرکزی دفتر میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا،اس موقع پر ساحل سمند ر میں لوگوں کی جان بچانے کے لئے تر بیت فراہم کرنے والے غلام محمد بلوچ سمیت پاکستان لائف سیونگ فاؤنڈیشن کے لائف گارڈز کی بڑی تعداد موجود تھی،

سید محمد احسان نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان لائف سیونگ فاؤنڈیشن نے سال 2004 میں اپنے کام کا آغاز کیا تھا، یہ رجسٹرڈ اور بین الاقوامی طور پر سند یافتہ خدمت خلق کا ادارہ ہے، جس کے قیام کا مقصد کراچی کے ساحلوں پر بلامعاوضہ لوگوں کو ڈوبنے سے بچانا اور ریسکیو کرنا ہیں،

انہوں نے کہا کہ ہم نے ساحلی پٹی پر کامیابی کے ساتھ لائف گارڈ پیٹرولنگ، ایجوکیشن و تربیت، عوامی آگہی کی مہمیں اور صحت و فٹنس کا فروغ جیسے شعبوں کے امتزاج سے لوگوں کے لیے محفوظ ماحول پیدا کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان لائف سیونگ فاؤنڈیشن اپنے انتظامی اخراجات پورے کرنے کے لئے حکومت، عوام اور بین الاقوامی اداروں سے عطیات و اسپانسرشپس پر انحصار کرتا ہے،پالس ریسکیو میں مقامی آبادی کے 250 سے زائد لائف گارڈز تعینات ہیں جس سے ان کے گھرانوں کے لئے بھی روزگار کے ذرائع پیدا ہوئے ہیں۔ اسکے نتیجے میں اس ادارے نے کراچی کے ساحلوں پر لوگوں کی جانیں بچا کر نہ صرف عوام کا دل جیتا بلکہ ان مقامی افراد کیلئے روزگار کے مواقع بھی فراہم کئے اور اب یہ ہماری ٹیم کا حصہ ہیں،

انہوں نے کہا کہ پاکستان لائف سیونگ فاؤنڈیشن ،انٹرنیشنل لائف سیونگ فیڈریشن (آئی ایل ایس) میں پاکستان کی نمائندگی کرتا ہے اور یہ لائف سیونگ نیوزی لینڈ (SLSNZ) کے ساتھ منسلک ہے۔ اس کے علاوہ اسکے پاس برطانیہ کی رائل لائف سیونگ سوسائٹی (RLSS) کی بھی ممبر شپ ہے،

انہوں نے کہا کہ اپنے اہل خانہ کے ساتھ ساحل سمندر پر آنے والے لوگوں کو ہم آگاہی فراہم کرتے ہیں،آنے والے لوگوں سے کہا جاتاہے کہ لائف گارڈز کی غیر موجودگی میں سمندر میں ہر گز نہ جائیں لائف گارڈز کے احکامات پر عمل کریں سمندری کرنٹ کی شناخت کو سیکھیں، اور ان سے دور رہیں مغرب کے بعد سمندر میں ہر گز نہ جائیں پہاڑی علاقے اور ایسے پتھروں پر ہر گز نہ کھڑے ہوں، جس سے سمندر کا پانی ٹکراتا ہے سمندر میں آگے جانے کے بجائے، ساحل سمندر کے قریب رہیں پالس کی احتیاطی احکامات پر عمل کریں،

انہوں نے کہا کہ بعض اوقات لوگ لائف گارڈز کی ہدایت پر سنجیدگی سے عمل نہیں کرتے ہیں بلکہ تلخ لہجہ اختیار کرتے ہیں، جب تک کوئی ہنگامی صورتحال سامنے نہ آجائے خاص طور پر مون سون کے موسم کے دوران جب کوئی ہنگامی صورتحال ہو جائے۔ ماہی گیری کے موسم (اکتوبر تا مارچ) میں لائف گارڈز کی ٹیم مکمل کرنے کے چیلنج کا سامنا ہوتا ہے کیونکہ لائف گارڈز تنخوا ہ کے بجائے قسمت آزمائی کے لئے گہرے سمندر میں مچھلیاں پکڑنے کو ترجیح دیتے ہیں،

انہوں نے کہا کہ نمکین پانی سے متاثر ہونے کی وجہ سے حفاظتی سامان کو مسلسل اپ گریڈ رکھنے کی ضرورت رہتی ہے جبکہ مزید واچ ٹاورز تعمیر کرنے کی بھی ضرورت ہے۔انہوں نے کہ ساحل سمند پر لائف گارڈز کی آمد و رفت کے لئے ٹرانسپورٹیشن کی سہولت کے لئے بسوں کی بھی ضرورت ہے۔ اس سے وقت کی بچت ہوگی اور پاکستان لائف سیونگ فاؤنڈیشن کی ریسکیو ٹیم احسن طر یقے سے اپنے فرائض انجام دے سکیں گے۔انہوں نے کہا کہ ساحل پرخاندان کی شکل میں آنے والے احتیاط کرتے ہیں لیکن من چلے نوجوان کسی کو خاطر میں نہیں لاتے بعض افراد تو لائف گارڈز پر ہی برہم ہوجاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمیں تیرنا آتا ہے کوئی ڈوبے گا تو خود بچالیں گے، اسی طرح لائف گارڈز کی جانب سے ساحل پر لگائے جانے والے خطرے کے جھنڈوں کو بھی نظر انداز کیا جاتا ہے بعض افراد ان جھنڈوں پر اپنی چپلیں اور جوتے ٹانگ دیتے ہیں اور کچھ لوگ اسے نکال کر کھیلنا شروع کردیتے ہیں، سیلفیوں کا شوق بھی ساحل پر خطرات کو بڑھارہا ہے نوجوان لڑکے لڑکیاں خطرناک انداز میں سیلفیاں لینے کے لیے اپنی جان خطرے میں ڈالتے ہیں چٹانوں پر بیٹھ کر اس وقت سیلفی لی جاتی ہے جب اونچی لہریں چٹانوں سے ٹکراتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ساحلی مقامات کے 12زون میں سے ہرزون میں 10لائف گارڈز اور سپر وائزر تعینات ہیں پاکستان لائف سیونگ فاؤنڈیشن کے تحت کراچی کی ساحلی پٹی پر 25 کل وقتی اور 100سے اوپر جز وقتی لائف گارڈز ساحلی مقامات پر انسانی جانوں کے تحفظ کو یقینی بنارہے ہیں۔ عام دنوں میں ان زونز میں 2 لائف گارڈز تعینات ہوتے ہیں جو لوگوں کو خطرے سے آگاہ کرتے ہیں اور ایمرجنسی کی صورت میں لہروں سے لڑکر جانیں بچاتے ہیں ہفتہ اتوار کے روز شہریوں کی بڑی تعداد ساحلی مقامات کا رخ کرتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ سمندر کی خطرناک موجوں اور بھنورمیں ماہرلائف گارڈبھی پھنس جاتے ہیں لائف گارڈ بننے کے لیے تیراکی میں مہارت کے علاوہ بھی اضافی خوبیوں کی ضرورت ہوتی ہے جن میں فیصلہ کرنے کی صلاحیت ذہنی اور جسمانی چستی شامل ہیں، عام تیراکی اور لائف گارڈ کے تیرنے میں بہت فرق ہوتا ہے سمندر کی موجیں ساحل سے آگے زیادہ طاقتور اور خطرناک ہوتی ہیں اور بھنور کی شکل اختیار کرلیتی ہیں،

جس میں ماہر پیراکوں کے لیے بھی زیادہ تر تیراکی ممکن نہیں ہوتی ایک لائف گارڈ کو سمندر کی لہروں میں موجود رپ کرنٹ کا بھی اندازہ ہوتا ہے اور وہ اس کرنٹ کو استعمال کرتے ہوئے ہیں ڈوبنے والوں کو بچاتا ہے، عام تیراک کو کرنٹ کی سمت کا اندازہ نہیں ہوتا اس لیے ڈوبنے والے کو بچانے کی کوشش میں عام تیراک خود بھی ڈوب جاتا ہے، لائف گارڈ کی تربیت کا پہلا اصول خود لائف گارڈ کا اپنا تحفظ ہے لائف گارڈ فیصلہ کرتا ہے کہ آیا ڈوبنے والے کو بچانا ممکن ہے اگر نہیں تو خود اپنی جان ایک حد سے زیادہ خطرے میں نہیں ڈالتا ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ ایک منٹ کا وقت سمندری حادثات کے لیے بہت ہوتا ہے بیشتر لوگ سیلفیاں لینے کے چکر میں مشکلات کا شکار ہوتے ہیں لائف گارڈ جب منع کرتے ہیں کہ یہ مقام سیلفی لینے کے لیے موزوں نہیں ہے تو تکرار کرتے ہیں، شہری ساحل پر لائف گارڈ کے انتباہ کو سنجیدگی سے لیں گھر سے نکلتے وقت بچوں اور اہل خانہ کو احتیاطی تدابیر سے آگاہ کریں تاکہ کسی قسم کی مشکل صورتحال سے محفوظ رہ سکیں۔

انہوں نے کہا کہ ساحلی مقامات پر آنے والے افراد کی تعداد ہر گزرتے سال کے ساتھ بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے کراچی کی ساحلی پٹی 35کلو میٹر طویل ہے اس پر واقع مقبول عوامی مقامات میں ہاکس بے سینڈزپٹ، سی ویو، منوڑہ بیچ، فرنچ بیچ، رشین بیچ ٹرٹل بیچ، سنہرا اور مبارک ولیج سرفہرست ہیں کراچی کے شہری بڑی تعدادمیں حب سے متصل گڈانی اور کوسٹل ہائی وے پر واقع کنڈ ملیر کے ساحل کا بھی رخ کررہے ہیں ان سب مقامات میں سینڈز پٹ کا مقام سب سے زیادہ خطرناک ہے کیونکہ یہاں لہروں کی رفتار بہت تیز ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ جہاں لہروں کی رفتار تیز ہوتی ہے لائف گارڈ ساحل پر آنے والوں پر مسلسل نظر رکھتا ہے اور جیسے ہی کوئی فرد خطرے کی حد کے قریب جاتاہے لائف گارڈ اسے سیٹی بجاکر منتبہ کرتا ہے اور نہ ماننے پر قریب جاکر اسے خطرے سے آگاہ کرتا ہے لائف گارڈ کی ذمے داری ہے کہ لوگوں کو خطرے کی حد تک جانے نہ دیں تاکہ ڈوبنے کی نوبت آنے سے پہلے ہی جانیں بچائی جاسکیں، پاکستان لائف سیونگ فاؤنڈیشن سے وابستہ زیا دہ تر لائف گارڈ نوجوان ہیں کل وقتی خدمات انجام دینے والوں کو ماہانہ 15ہزار روپے ملتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ریکسیور ٹیوبز لائف گارڈز کا بنیادی ہتھیار ہے جسے استعمال کرکے ڈوبنے والے افراد کو موت کے منہ سے نکالا جاتا ہے اور یہی ریسکیو ٹیوب لائف گارڈ کی زندگی بھی بچاتی ہے۔ لائف گارڈز یہ ریسکیو ٹیوب خود بناتے ہیں مقامی سطح پر بنانے میں تین سے ساڑھے تین ہزار روپے کی لاگت آتی ہے اس کے مقابلے میں درآمدی ریسکیوٹیوب 15ہزار روپے کی پڑتی ہے۔ ریسکیو ٹیوب سے ایک وقت میں دو افراد کو بھی ریسکیو کیا جاسکتا ہے لائف گارڈ خود کو محفوظ رکھتے ہوئے ریسکیو ٹیوب لہروں میں گھرے فرد تک پہنچاتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ساحل سمندر پر لوگوں کی زندگیاں بچانے والے نجی شعبے کے واحد ادارے پاکستان لائف سیونگ فاؤنڈیشن (پالس ریسکیو) نے خیرپور میں ڈوبنے کے بڑھتے ہوئے واقعات پر سیف کینال پروجیکٹ کا بھی آغاز کیا ہے،سیف کینال پروجیکٹ کے تحت کینال میں ڈوبنے کے بڑھتے ہوئے واقعات پر خیرپور کے مقامی بالخصوص خواتین اور بچوں کی حفاظت کے لئے خصوصی سامان فراہم کیا گیا ہے۔