بیرون ملک سیاسی پناہ لینے والوںکی شہریت بحالی کیلیے ضابطہ بنایا جائے

74

اسلام آباد (صباح نیوز) سینیٹ کی خصوصی عمل درآمدکمیٹی نے حکومت کو بیرون ملک سیاسی پناہ لینے والے جو اپنی پاکستانی شہریت بحال کرناچاہتے ہیں ان کے لیے لائحہ عمل بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے اگلے اجلاس میں پیش کرنے کی ہدایت کردی، سینیٹر دلاور خان نے کہاکہ لوگ مجبوری کی عالم میں بیرون ملک روزگار کے لیے گئے ہیں، اگر ان کو اپنی غلطی کا احساس ہوگیا ہے اور وہ واپس آنا چاہتے ہیں اور اوریجن کارڈ کے درخوست گزار کی فیملی ٹری نادرا میں موجود ہو اور اسکا کوئی کریمنل ریکارڈ نہیں تو کارڈ ایشو کیا جائے، سینیٹر اورنگزیب اورکزئی نے کہا کہ لوگوں نے خراب معاشی صورتحال کی وجہ سے افغان شہریت لی، وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان نے کہا کہ یہ تو پاکستانی شناختی کارڈکا مذاق ہے، جب چاہو چھوڑ دو جب چاہو واپس لے لو، کمیٹی نے وزارت داخلہ کو طلب کرتے ہوئے معاملہ اگلے اجلاس تک مؤخر کردیا۔ منگل کو سینیٹ کی خصوصی عمل درآمدکمیٹی کا اجلاس کنوینئر سینیٹر دلاور خان کی زیر صدارت ہوا۔ اجلاس میں سینیٹ کمیٹیوں کی طرف سے جاری کردہ سفارشات پر عمل درآمد کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں پاکستانی شہریوں کو اوریجن کارڈ کے اجرا کا معاملہ بھی زیر غور آیا جس پر نادرا حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ پاکستان اوریجن کارڈ کبھی بند نہیں ہوا، پاکستانی شہریوں کو اوریجن کارڈ کے بغیر دوسرے ملک کی شہریت نہیں مل سکتی، پاکستانی شہریوں کو پاکستان اوریجن کارڈ دینا ہماری ذمے داری ہے۔ اوریجن کارڈ کے اجرا کی منظوری وزارت داخلہ دیتی ہے، جن افراد کے اوریجن کارڈز روکے ہیں انہوں نے خود کو افغان ظاہر کر کے جرمنی کی شہریت حاصل کی۔ اوریجن کارڈ کی درخواست وصول ہوتے ہی کلیئرنس کے لیے وزارت داخلہ کو بھجوا دیتے ہیں۔ افغان پاسپورٹ پر یورپ میں مقیم پاکستانیوں کے نادراشناختی کارڈ کے اجرا کا معاملہ زیر غور ہے، بیشتر پاکستانیوں نے افغان پاسپورٹ پر جرمنی میں سیاسی پناہ لی ہے۔ وزرات داخلہ حکام کی عدم شرکت پر کمیٹی ارکان نے برہمی کا اظہار کیا۔ کنوینئرکمیٹی دلاور خان نے کہا کہ جن لوگوں نے درخواست دی ہے ان کا شجرہ نسب نادرا چیک کرے، اگر بیرون ملک پاکستانی اوریجن کارڈ کے لیے درخواست دے تو اس کا ریکارڈ چیک کرلیں۔ وزرات خارجہ حکام نے افغان پاسپورٹ پر پاکستانیوں کی سیاسی پناہ لینے والوں کا قومی شناختی کارڈ دینے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ ایسا نہیں کرسکتے ہیں کہ سیاسی پناہ لینے کے لیے انہوں نے خود پہلے پاکستانی شہریت ترک کی اب دوبارہ ایک طریقہ کار سے ہی ان کوشہریت دی جاسکتی ہے۔