مولانا کے آزادی مارچ کی وجہ اقتدار سے دوری ہے،میا ں اسلم اقبال

37

لاہور(آئی این پی )صوبائی وزیراطلاعات وثقافت میاں اسلم اقبال نے کہا ہے کہ جمعیت علمائے اسلام کی جانب سے سوشل میڈیا پر سرکولیٹ ہونے والے لیٹر میں لوگوں کو اشتعال دلانے اور مدرسوںکے بچوں کوڈنڈوںسے مسلح ہو کر آزادی مارچ میں آنے کی ترغیب دی جارہی ہے۔مولانا توڑپھوڑ کی سیاست کا خیال ذہن سے نکال دیں۔پرامن احتجاج سب کا حق ہے لیکن اگر کسی نے پرتشددمظاہرے کی کوشش کی تو قانون حرکت میں آئے گا اور ان کے ساتھ قانون کے مطابق نمٹا جائے گا۔پیپلز پارٹی اور نون لیگ نے مولانا کے آزادی مارچ سے دور رہنے کا اچھا فیصلہ کیا ہے۔صوبائی وزیر نے ان خیالات کا اظہار آج اپنے کیمپ آفس میں کھلی کچہری کے موقع پر میڈیا کے نمائندو ں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔صوبائی وزیر نے دو گھنٹے تک لوگوں کے مسائل سنے اور بعض مسائل کے حل کے لیے موقع پر ہی احکامات جاری کئے۔لوگوں کے زیادہ تر مسائل تعلیم،صحت ،واسا،تھانہ کچہری اور ریونیوسے متعلقہ تھے۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ عوام کی مشکلات کا ازالہ اور ان کے مسائل کا حل ہماری پہلی ترجیح ہے اور اسی مقصد کے لیے کھلی کچہریاں لگائی جارہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کھلی کچہری میں آنے والے سائلین کے مسائل کے حل تک پیروی کی جاتی ہے۔میاں اسلم اقبال نے کہا کہ مولانا فضل الرحمن کئی برسوں تک کشمیر کمیٹی کے چیئرمین رہے لیکن مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے کوئی سنجیدگی نہیں کھائی۔اب اقتدار سے باہر ہونے کی وجہ سے ان کی ذاتی معیشت خراب ہوئی ہے۔ان کی پریشانی بڑھ گئی ہے،ان کے آزادی مارچ کا مقصد عوام کے مسائل نہیں کچھ اور ہے۔وزیراعظم عمران خان نے مسئلہ کشمیر کو دنیا کے ہر فورم پر بھرپور طریقے سے اٹھایا ہے لیکن مولانا اپنے آزادی مارچ کے ذریعے عالمی میڈیا اور دنیا کی توجہ مسئلہ کشمیر سے ہٹانا چاہتے ہیں۔پاکستان مشکل دور سے گزررہا ہے اور مولانا ہوش کے ناخن لیںان کا ایجنڈا کامیاب نہیں ہوگا۔صوبائی وزیر نے کہا کہ پی ٹی آئی توڑ پھوڑ کی سیاست پر یقین نہیں رکھتی۔ہم نے کبھی ایسی سیاست کی اور نہ آئندہ کریں گے۔اس لیے مولانا بھی توڑ پھوڑ کی سیاست سے دور رہیں اور لوگوں کو اشتعال دلانے کی کوشش نہ کریں۔انہوں نے کہا کہ آزادی مارچ کے لیے چندہ اکٹھا کیا جارہا ہے اور یہ چندہ بھی مولانا کی جیب میں جانا ہے۔ہو سکتا ہے اس سے ان کی معیشت کچھ بہتر ہو جائے۔انہوں نے کہا ہم مسائل بات چیت کے ذریعے حل کرنا چاہتے ہیںاور میڈیا کے ذریعے پیغام بھی دیا گیا ہے لیکن مولانا کا مسئلہ کچھ اور ہے۔ان کی پریشانی عوام نہیں بلکہ اقتدار سے دوری ہے۔