مصر میں اخوان سے تعلق جرم1070 اساتذہ برطرف

72

قاہرہ (انٹرنیشنل ڈیسک) مصر میں فوجی صدر جنرل عبدالفتاح سیسی کی حکومت نے ملک کی سب سے بڑی مذہبی اور سیاسی جماعت اخوان المسلمین سے تعلق رکھنے والے 1070 اساتذہ کو ملازمت سے برطرف کرکے ان کے خلاف عدالتی کارروائی کا فیصلہ کیا ہے۔ عرب ذرائع ابلاغ کے مطابق مصری وزیر تعلیم ڈاکٹر طارق شوقی نے پیر کے روز ایک پریس کانفرنس میں شرانگیز اعلان کیا کہ حکومت نے انتہا پسندانہ نظریات کے حامل 1070 اساتذہ کوبرطرف کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے مزید ہرزہ سرائی کرتے ہوئے کہا کہ کالعدم جماعت اخوان المسلمون سے تعلق رکھنے والے اساتذہ کی برطرفی کا مقصد طلبہ کا مستقبل محفوظ بنانا اور انہیں انتہا پسندی کی طرف جانے سے روکنا ہے۔ مصری وزیر نے کہا کہ ایک سال کے کنٹریکٹ پر بھرتی کیے گئے ایک لاکھ 20 ہزار اساتذہ کا کنٹریکٹ بڑھا کر 3 سال کردیا گیا ہے۔ ڈاکٹر شوقی کا کہنا تھا کہ ملک میں سرکاری اسکولوں کے لیے 3 لاکھ 20 ہزار اساتذہ کی ضرورت ہے۔ یاد رہے کہ فوجی صدر عبدالفتاح سیسی نے گزشتہ سال اعلان کیا تھا کہ وہ جب تک مصر کے صدر ہیں، اخوان کو ملک میں سر اٹھانے کا موقع نہیں دیں گے۔ کویت کے ایک اخبار کو انٹرویو میں انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ مصری قوم اخوان المسلمون کو دوبارہ اقتدار تک نہیں پہنچنے دے گی اور ملک میں اب اخوان کا کوئی کردار باقی نہیں رہا۔ تاہم اساتذہ کی اس برطرفی سے باخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ مصر کی فوجی حکومت اس پُرامن سیاسی جماعت سے اب بھی کتنی خوف زدہ ہے۔