شام سے فوجی انخلاء پر ٹرمپ کو کڑی تنقید کا سامنا

71

واشنگٹن/ انقرہ (انٹرنیشنل ڈیسک) شمالی شام سے فوجی انخلا کے فیصلے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اپنی ہی جماعت ریپبلکن پارٹی کے سیاستدانوں کی طرف سے بھی کری تنقید کا سامنا ہے۔ امریکی ایوان نمایندگان کی ڈیموکریٹ اسپیکر نینسی پیلوسی کے علاوہ خود ٹرمپ کے اپنے معتمد ریپبلکن سینیٹر لنڈسے گراہم نے بھی ٹرمپ پر الزام لگایا کہ انہوں نے انخلا کے اس فیصلے کے ساتھ خطے میں امریکی اتحادی کردوں کو اکیلا چھوڑ دیا ہے۔ واضح رہے کہ واشنگٹن نے اتوار کی رات شمالی شام سے اپنے فوجی دستوں کے انخلا کے فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ ترکی شمالی شام میں فوجی کارروائی کرنے کو ہے اور امریکا نہ تو اس کارروائی میں کوئی رکاوٹ ڈالنا چاہتا ہے اور نہ ہی انقرہ کی کوئی مدد کرنا چاہتا ہے۔ تاہم ٹرمپ نے منگل کے روز ٹوئٹر پیغام میں کہا کہ ترکی شام میں کردوں کے خلاف فوجی آپریشن کے دوران حد سے تجاوز نہ کرے اور کارروائی میں شدت پیدا نہ کرے۔ اگر ایسا کیا گیا تو امریکا ترکی کی معیشت کو مکمل طور پر تباہ کر دے گا۔ ٹرمپ نے مزید لکھا کہ میں اس بات کو دہراتا ہوں کہ اگر ترکی کوئی ایسا قدم اٹھاتا ہے جو میرے نزدیک درست نہیں، تو میں ترکی کی معیشت کو مکمل طور پر تباہ کر دوں گا بالکل اسی طرح سے جیسے پہلے کی تھی۔ جس کے بعد ترکی کی کرنسی لیرا ڈالر کے مقابلے میں شدید گراوٹ کا شکار ہو گئی تھی۔ ٹرمپ نے مزید لکھا کہ کہ داعش کے خاتمے کے لیے طویل جنگ لڑی، جسے سبوتاژ نہ ہونے دیا جائے۔ تاہم ان بیانات کے چند ہی گھنٹوں بعد ٹرمپ نے یوٹرن لیتے ہوئے ٹوئٹر پر لکھا کہ مت بھولیں کہ ترکی ہمارا بڑا تجارتی شراکت دار ہے۔ وہ ہمارے ایف 35 جنگی طیارے کا اسٹیل ڈھانچہ تیار کرتا ہے اور ترک معاملات میں بھی بہت اچھے ہیں۔صدر اردوان میری دعوت پر 13 نومبر کو امریکا تشریف لارہے ہیں۔