ایلیٹ فورس کے 7500 اہلکار عراق بھیج دیے‘ ایرانی نیوز ایجنسی

91

تہران (انٹرنیشنل ڈیسک) ایران نے سپاہ پاسداران انقلاب کی ایلیٹ فورس کے ساڑھے 7 ہزار اہل کاروں کو عراق بھیجنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ عراق میں ان اہل کاروں کو شہادت امام حسینؓ کے چہلم کے موقع پر مقدس مقامات میں امن وامان قائم کرنے کے لیے بھیجا گیا ہے۔ واضح رہے کہ ایران کی طرف سے پاسداران انقلاب کے اہل کاروں کو ایسے وقت میں عراق بھیجنے کا اعلان کیا گیا ہے جب وہاں گزشتہ ایک ہفتے سے جاری پُر تشدد احتجاجی مظاہروں کے دوران 100 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ عرب ٹی وی العربیہ کے مطابق ایران کی داخلی سیکورٹی فورسز کی ایلیٹ یونٹوں کے سربراہ بریگیڈیر جنرل حسن کرامی نے بتایا کہ تہران نے کربلا میں امن وامان کے قیام میں مدد فراہم کرنے کے لیے ساڑھے 7 ہزار اہل کار بھیجے ہیں۔ سرکاری نیوز ایجنسی مہر کو انٹرویو دیتے ہوئے بریگیڈیر کرامی نے کہا کہ امام حسینؓ کی شہادت کے چہلم کے حوالے سے عراق میں 10 ہزار اہل کار تعینات کیے جائیں گے، جس میں سے 7500 کو چہلم سے قبل عراق بھیج دیا گیا ہے جب کہ مزید 4 ہزار اہل کاروں کو تعینات کیا جائے گا۔ ایک سوال کے جواب میں ایرانی اسپیشل فورسز کے کمانڈر نے کہا کہ ایران سے عراق داخل ہونے والے جلوسوں کو سیکورٹی فراہم کرنے کے لیے چہلم کے موقع پر 30 ہزار پولیس اہل کار تعینات کیے جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ سرحد سے 10 سے 15 کلو میٹر کا علاقہ زیادہ حساس ہے جہاں ماتمی جلوسوں کی سیکورٹی اسپیشل فورس کے کمانڈوز کے سپرد کی جائے گی۔ دوسری جانب عراقی صدر برہم صالح نے ملکی سیکورٹی دستوں کی طرف سے حکومت مخالف مظاہرین پر فائرنگ کے واقعات کی مذمت کی ہے۔ انہوں نے ٹیلی وژن پر قوم سے اپنے خطاب میں کہا کہ عراقی فوج اور پولیس دونوں کو تمام عراقیوں کے حقوق کا تحفظ کرنا ہو گا۔ صدر صالح نے پارلیمان سے مطالبہ کیا کہ وہ ملک میں قانونی اصلاحات، خاص کر انتخابی قوانین میں ترامیم کی راہ ہموار کرے۔