عمران خان، لارڈ میکالے کا جانشین

127

احمد اعوان
جب سے مولانا فضل الرحمن نے دھرنے کی تیاریاں شروع کی ہیں حکومت اور ان کے سہولت کاروں کے سینوں میں مدارس کے طلبہ کا درد جاگا ہے۔ آج ہم اسی پر بات کریں گے۔ عمران خان نے جنرل باجوہ کی سنت پر عمل کرتے ہوئے چند روز قبل مدارس کے ان طلبہ سے خطاب کیا جنہوں نے مختلف بورڈز میں پوزیشن حاصل کی تھی۔ اسی طرح کی ایک تقریب 20 اگست کو جنرل باجوہ بھی منعقد کرچکے تھے۔ مدارس کے طلبہ کے لیے ریاست نے یہ پابندی لگا رکھی ہے کہ وہ میٹرک، انٹر کریں۔ لفظ پابندی اس لیے استعمال کیا ہے کیوں کہ سہولت اختیاری ہوتی ہے اور جو عمل لازماً کرنا ہو وہ پابندی کے زمرے میں آتا ہے۔ آپ وفاق المدارس سے مفتی، عالم کی سند حاصل کرلیں مگر جب تک آپ کے پاس میٹرک، انٹر، گریجویشن کی جدید سند نہیں ہوگی تب تک آپ کی حاصل کی گئی مدرسے کی سند کو کوئی ریاستی ادارہ قبول نہیں کرے گا۔ اس لیے میٹرک، انٹر اور گریجویشن کی سند حاصل کرنا علما، مفتیان کرام اور حفاظ کرام پر جبر، زبردستی اور پابندی ہے۔ ریاست کے اعلیٰ حکام نے مدارس کے طلبہ، جنہوں نے میٹرک انٹر میں امتیازی نمبر حاصل کیے انہیں اپنے ہاں مدعو کرکے پیغام دیا کہ آپ جو علم حاصل کرتے رہے ہیں وہ اختیاری علم ہے، اصل علم یہ ہے اگر آپ اس میدان میں اچھے نمبر لیں گے تو ہم آپ کی عزت افزائی اپنے پاس بلا کر کریں گے۔ اس لیے اس علم کے حصول پر توجہ دیں اور جدید نفس پرست ریاست اور نظام کا حصہ بنیں۔ عمران خان نے تقریب میں ان علما، فقہا اور مفتیان کرام کو بریگیڈیئر اعجاز، شفقت محمود اور نعیم الحق سے پیچھے بٹھایا جو اگر آپ کے یا ہمارے گھر تشریف لائیں تو ہم انہیں اوپر بٹھائیں اور خود فرش پر بیٹھیں۔ عمران خان نے تقریب میں لارڈ مکالے کی فکر کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ مدارس کے طلبہ جدید علوم حاصل کریں اور نوکریاں لیں۔ لارڈ مکالے بھی یہی کہتا تھا کہ ہم برصغیر میں ایسا انسان پیدا کریں گے جو خود نوکری کی تلاش کرے گا۔ مولانا مودودی نے جلسہ تقسیم اسناد علی گڑھ کی تقریب سے خطاب میں کہا تھا کہ یہ نظام آپ کو ڈگری اس وقت دیتا ہے جب جذبہ ایمانی، غیرت اور حمیت آپ میں سے نکل جاتی ہے۔
ریاست جانتی ہے کہ ایک ایسا مولوی جو نوکری کرتا ہو وہ کسی بھی معاملے میں رجوع کرنے پر آسانی سے راضی ہوسکتا ہے بہ نسبت اس مولوی کے جو فقر کا راستہ اختیار کرتا ہو۔ جدید نظام تعلیم انسان کو نفس پرستی، آسائشوں، لذتوں اور سہولتوں کے حصول کے ایسے گورکھ دھندے میں پھنساتا ہے جس سے نکلنا انسان کے لیے بے حد مشکل بلکہ ناممکن کے قریب ہوتا ہے۔ اور انسان تمام عمر مزید، مزید کے چکر میں پھنسے رہنے کے بعد آخری ہچکی لیتے وقت بھی آرزوئیں، تمنائیں دل میں لے کر مرتا ہے۔ ہماری تاریخ اور تہذیب میں جو شخص سب سے کم دنیا لیتا ہے وہ ولی ہوتا ہے ہمارے ہاں زیادہ خریداری کرنے والا شیطان کا بھائی کہلاتا ہے۔ عمران خان مدارس کے طلبہ کو کس راستے پر لگانا چاہتے ہیں؟ پاکستان کے طول و عرض میں 7 ہزار، 10 ہزار روپے لینے والا مولوی بغیر کسی فنگر
پرنٹ مشین کے روز صبح سردی گرمی میں فجر کی اذان دیتا ہے، نہ اس کو پنشن کی لالچ ہوتی ہے نہ بونس کی۔ کیا عمران خان جس تعلیم کے حصول اور نوکریوں کے لالچ میں مدارس کے طلبہ کو ڈال رہے ہیں اس نظام میں سے کوئی ایسی مثال بطور دلیل پیش کرسکتے ہیں؟ اصل میں ریاست بتانا چاہتی ہے کہ عہد حاضر کو مطلوب علم وہ نہیں جو مدارس کے لاکھوں بچے حاصل کرکے دین کے سپاہی بنے ہوئے ہیں بلکہ ریاست کو مطلوب علم وہ ہے جو اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں دیا جارہا ہے۔ یہی علم جدید ریاست اور سرمایہ دارانہ نظام کو مطلوب ہے۔ عمران خان نے تقریر میں برصغیر کے قدیم مدارس کو آکسفورڈ اور کیمرج یونیورسٹی سے اچھا قرار دیا تو سوال یہ ہے کہ وہ مدارس ریاستی سرپرستی میں چلتے تھے یا خود مختار تھے، درس نظامی تو آج بھی پڑھایا جارہا ہے پھر آج ریاست کیوں جدید علم بھی پڑھوانے پر بضد ہے؟ مدارس جب خود مختار تھے تو وہ تخلیقی تھے وہ اپنے وجود کے اظہار کا جواز خود تھے۔ 700 سال تک مسلمانوں کے حصول علم کا مقصد نوکری کہاں تھا؟ جدید سرمایہ دارانہ ریاست کی مجبوری ہے کہ اس کی رٹ ہر جگہ نافذ ہو اس کی اجارہ داری ہر جگہ ہر میدان عمل میں ہو۔ ریاستی رٹ صرف قانون کے ذریعے نافذ نہیں ہوتی بلکہ یہ تعلیم، ثقافت کے ذریعے بھی ہوتی ہے۔
نوکری کرنے والا ملّاہر جگہ رجوع کرے گا وہ خاندان کے ادارے، اپنی تاریخ، اپنی تہذیب، اپنی ثقافت، اپنی اقدار، اپنی روایت، اپنی فکر، الغرض ہر چیز سے رجوع کرسکنے کی گنجائش اور اُمید رکھتا ہوگا۔ آپ آج کے جدید انسان کو دیکھ لیں وہ صرف نوکری، بچوں کے اسکول اور گھروں کی ذمے داریوں کے نام پر کیسے کمپرومائز کرتا ہے۔ عمران خان چاہتا ہے کہ مدارس کے طلبہ بھی ایسے ہی بن جائیں۔ انگریز کے برصغیر آنے سے قبل تعلیم ایک معاشرتی عمل تھا، اقداری عمل تھا، روحانی عمل تھا، تاریخی عمل اور اختیاری عمل تھا۔ انگریز کی آمد کے بعد تعلیم ایک معاشی عمل بن چکا ہے، یہ سیاسی فیصلہ بن چکا ہے جو نافذ ہونے کی چیز ہے۔ آج علم لازم ہے، لڑکا، لڑکی، گونگا، ذہنی معذور، لنگڑا، اندھا، بہرا، ہیجڑا سب پر اسکول جانا لازمی ہے۔ اسے آپ علم حاصل کرنے کی آزادی کہیں گے؟ یا علم کا جبر کہیں گے؟۔آج علم اقداری سے اقتداری بن چکا ہے۔ آپ مدارس کو قومی دھارے میں لا کر انگریز کے مشن کی تکمیل میں اپنا حصہ ڈال رہے ہیں، قومی دھارا کیا ہوتا ہے؟ جدید ریاست اور سرمایہ دارانہ منہج میں مدارس کو شامل کیا جائے تا کہ آپ کا مدارس پر وہ مکمل کنٹرول ہو جو آج نہیں ہے۔ مدارس کو قومی دھارے میں لانا انگریز کا مشن تھا اب اس مشن کے لیے عمران خان نے کمرکس لی ہے۔ ریاست کے لیے مفتی بننا، عالم بننا، فقیہہ بننا، حافظ بننے سے زیادہ اہم کام ایم اے کرنا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کسی بھی سرکاری ادارے خاص کر فوج میں مفتی، عالم، حافظ، قاری کو گریڈ 17 میں بھرتی نہیں کیا جاتا بلکہ اس کو جونیئر کمیشنڈ آفیسر، (جی سی او) بھرتی کیا جاتا ہے۔ مگر ایک ایم اے اردو گریڈ 17 میں بھرتی ہوسکتا ہے۔ ریاست نے ماضی کے حکمرانوں کے نقشِ قدم پرچلتے ہوئے مدارس کے طلبہ کو ایک مرتبہ پھر جدید نفس پرست نظام تعلیم نامی زہر کی گولی شکر میں لپیٹ کر دینے کی ٹھان لی ہے۔ اس لیے یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ عمران خان لارڈ مکالے کا جانشین ہے۔