پاکستان میں مصری ماڈل؟

133

اسامہ الطاف
مصر کے سابق صدر محمد مرسی کی وفات پر ایک تجزیہ نگار نے لکھا: ’’مصر اور پاکستان میں یہ مماثلت کیسی ہے؟ ہم ایک جیسے کیوں ہیں؟ حسن البنا اور قائد اعظم۔ سید مودودی اور سید قطب۔ جمال عبدالناصر اور ذوالفقار علی بھٹو۔ حسنی مبارک اور ضیاالحق۔ جنرل سیسی اور۔۔۔ خیر چھوڑیے کہاں تک تقابل کریں۔ سب کچھ تو تاریخ کی کتابوں میں لکھا ہوا ہے۔ سوال وہی ہے کہ یہ مماثلت کیا ہے اور کیوں ہے؟ مصر کی تاریخ بادشاہوں کی تاریخ ہے اور ہماری بھی۔ بادشاہ کا نام کچھ بھی ہو، ہوتا وہ فرعون ہی ہے۔ اس ایک لفظ میں بادشاہت کا تصور سمٹ آیا ہے‘‘۔
تاریخی اعتبار سے مصر اور پاکستان کا تقابل تو قابل بحث ہوسکتا ہے، لیکن دونوں ممالک کی موجوہ معاشی اور داخلی صورتحال میں ممکنہ مماثلت تشویشناک ہے۔ مصر نے تین سال قبل خراب معاشی صورتحال اور تجارتی خسارے میں اضافے کی وجہ سے 12ارب ڈالرکاآ ئی ایم ایف پروگرام کیا جو امسال جولائی میں ختم ہوگیا ہے۔ اقتصادی امور کے معروف جریدے فائنانشل ٹائمز نے اپنی حالیہ رپورٹ میں مصر کی معاشی صورتحال کی تعریف کی ہے، جریدے کے مطابق مصر کو خطے کی تیزی سے بڑھتی ہوئی معاشی طاقت کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔ مصری صدر عبدالفتاح السیسی نے 2013 میں جب اقتدار سنبھالا تو غربت کی شرح زیادہ تھی اور بیرونی سرمایہ کاری انتہائی کم تھی۔ جریدے نے ایک ماہر معاشیات کو نقل کرتے ہوئے لکھا ہے کہ مصر کامیاب معاشی اصلاحات کی مثال اور ابھرتی ہوئی معیشت ہے۔
مصر نے آئی ایم ایف پروگرام شروع کرنے کے بعد مقامی کرنسی کی قیمت کم کی، بنیادی ضروریات کی اشیا سے سبسڈی ختم کی اور ٹیکس میں اضافہ کیا۔ جریدے کے مطابق تین سالہ پروگرام ختم ہونے پر آج مصر کی شرح نمو 2010 کے بعد اعلیٰ ترین سطح 5.6فی صد پر ہے، قرضوں اور بجٹ خسارے میں کمی آئی ہے، شرح نمو کا خسارہ تین سال میں 12فی صد سے کم ہوکر 8فی صد ہوگیا ہے، تاہم نجی شعبہ اب بھی حکومتی پالیسی کے حوالے سے تذبذب کا شکار ہے۔
مصر کی معاشی صورتحال کے متعلق ایک طرف تو یہ رپورٹ ہے جس میں سرمایہ کاروں نے مصر کی معاشی صورتحال پر اطمینان کا اظہار کیا ہے، دوسری طرف ایک اور معروف جریدے دی اکانومسٹ نے کچھ مختلف تصویر پیش کی ہے۔ دی اکانومسٹ نے مصر کے سنسان بازاروں کی مایوس کن تصویر کشی کی ہے جہاں دکاندار ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے ہیں، بجلی کی بڑھتی ہوئی قیمت کی وجہ سے دکانوں میں موبائل کی روشنی کے علاوہ تمام روشنیاں گل ہیں۔ جریدے کے مطابق مصر نے 2020 میں غربت کی شرح نصف تک لانے اور 2030 تک غربت کے مکمل خاتمے کا منصوبہ بنایا ہے، لیکن مصر غلط راہ پر گامزن ہے ،کیونکہ سرکاری اعداد وشمار کے مطابق 2018میں مصر کی 33فی صد آبادی خط غربت سے نیچے زندگی گزاررہی ہے، جبکہ 2015میں یہ شرح قریباً 28فی صد تھی، سرکاری دعوے کے برعکس ورلڈ بینک کے مطابق مصر کی 60فی صد آبادی غریب یا غربت کے دہانے پر ہے۔
دی اکانومسٹ نے لکھا ہے کہ کرنسی کی قیمت میں کمی اور ٹیکس لاگو کرنے سے مصر کا خسارہ تو کم ہوگیا، لیکن عام مصری شہری کی زندگی بدتر ہوگئی، پٹرول اور گیس پر سبسڈی کم کرنے سے روز مرہ کی نقل وحرکت مہنگی ہوگئی، خانگی خرچوں میں 43فی صد اضافہ ہوا ہے، مصری شہریوں کی آمدنی تین سال پہلے کے مقابلے میں کم ہے۔ معاشی صورتحال سے سب زیادہ متاثر غریب ترین طبقہ ہورہا ہے، گوشت لگژری آئٹم ہوگیا ہے، عام کھانے پینے کی اشیا مہنگی ہوگئی ہے۔ جریدے کے مطابق حکومت شہریوں کے حلق سے پیسے نکال رہی ہے، ڈرائیونگ لائسنس، گن پرمٹ، اسکول فیس وغیرہ سب کی قیمتوں اور ٹیکسوں میں اضافہ ہوگیا ہے۔ مصری حکومت نے معاشی صورتحال کو مد نظر رکھتے ہوئے غربا کے لیے فلاحی منصوبے شروع کیے ہیں لیکن ان سے استفادہ کرنے والوں کی شرح صرف 10فی صد ہے۔
عالمی میڈیا کی مصر کی معاشی صورتحال سے متعلق رپورٹس میں ایک دلچسپ اور اہم نکتہ یہ بھی ہے کہ مصر میں معیشت فوج نے سنبھالی ہوئی ہے، مصری افواج کی ملکیت میں کئی کمپنیاں ہیں، ہر تجارتی شعبے پر فوج کا تسلط ہے جس کا مجموعی معاشی صورتحال پر منفی اثر پڑتا ہے۔ اس نکتے کا ہماری ملکی معاشی صورتحال سے ہرگز کوئی تعلق نہیں، بس یوں ہی برسبیل تذکرہ یہ نکتہ آگیا۔
پاکستان کی موجودہ معاشی صورتحال مصر کی تین سال قبل کی صورتحال سے زیادہ مختلف نہیں، ہمیں بھی تجارتی خسارے، غربت اور بیرونی سرمایہ کاری میں کمی ایسے مسائل کا سامنا ہے، فکر انگیز بات یہ ہے کہ ہم بھی ان مسائل کے حل کے لیے وہی طریقہ کار اختیار کررہے ہیں جو مصر نے اختیار کیا، مذکورہ رپورٹوں سے واضح ہے اس ڈگر پر چلنے کا انجام یہ ہے کہ معاشی اشاریے بہتر ہوجائیں گے، حکومتیں دعوے آسمانوں پر پہنچ جائیں گے، سرمایہ کار خوش ہوں گے، لیکن غریب عام آدمی کی زندگی مزید مشکل ہوجائے گی اور احساس پروگرام ایسے فلاحی منصوبوں کا اثر محدود ہوگا۔ حالیہ آئی ایم ایف پروگرام شروع کرنے سے قبل حکومتی معاشی ٹیم میں جو تبدیلی آئی تھی اس میں ایک اہم اضافہ گورنر اسٹیٹ بینک ڈاکٹر باقر رضا کی تعیناتی بھی تھی، ڈاکٹر صاحب پاکستان میں تعیناتی سے قبل مصر میں آئی ایم ایف کی جانب سے نگران تھے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ موصوف کا کام پاکستان میں بھی وہی ہے جو مصر میں تھا، بس منصب کچھ مختلف ہے۔
مصری معاشی ماڈل کسی بھی لحاظ سے مثالی نہیں ہے، مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے ارباب اختیار کو بالخصوص موجودہ اقتصادی ٹیم کو عام آدمی کے حالات کا ادراک نہیں۔ مصر غالباً اب ایک اور آئی ایم ایف پروگرام شروع کرے گا، ہمیں کہا گیا تھا کہ یہ پاکستان کا آخری آئی ایم ایف پروگرام ہے، لیکن جو معاشی پالیسی اختیار کی جا رہی ہے وہ ہمیں قرضوں کی دلدل میں مزید دھنسائے گی۔ قرضوں سے نجات کا راستہ یہ ہے کہ ہم مقامی صنعت کو فروغ دیں، چھوٹے کاروبار کی حوصلہ افزائی کریں اور برآمدات میں اضافہ کریں، لیکن ستم ظریفی یہ ہے کہ ایک سال گزرنے کے باجود حکومت نے ابھی تک ایکسپورٹ پالیسی ہی نہیں بنائی، ہم اگر اسی ڈگر پر چلتے رہے تو ہمارا انجام مصر سے مختلف نہیں ہوگا۔