دماغ کا خلل!

114

ناصر حسنی
وزیراعظم عمران خان کی اقوام متحدہ میں کی گئی تقریر اچھی تھی بلکہ بہت اچھی تھی سو، اس کی برائی کرنا بہت بُری بات ہے مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ تقریر سے پاکستان کو کیا فائدہ ہوا؟ اور سوال یہ بھی ہے کہ تقریر کی مخالفت سے ملک و قوم کو کیا حاصل ہوگا؟ کہنے والوں کا یہ کہنا بھی کسی حد تک درست ہے کہ تقریر تو اسکول کے بچے بھی بہت اچھی کرلیتے ہیں، تقریر تو دجال بھی بہت اچھی کرے گا اس کی تقریر اتنی مسحور کن ہوگی کہ سننے والے اسے خدا تسلیم کرلیں گے۔ تقریر کی مخالفت کے جواب میں تحریک انصاف کے رہنمائوں کا کہنا ہے کہ اپوزیشن کی مخالفت کھمبا نوچنے کے مترادف ہے، مگر وہ نادان دوست کا کردار ادا کررہے ہیں وہ یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ عمران خان کو کھمبا کہنے کا مقصد یہ ہے کہ لوگوں نے کھمبے کو ووٹ دیے ہیں، مخالفین کا یہ کہنا کہ کشمیر بیچ دیا گیا ہے کسی حد تک درست ہے مگر اظہار کا سلیقہ غلط ہے۔ کشمیر کو کوئی نہیں بیچ سکتا۔ البتہ سودے بازی کی جاسکتی ہے اور اس کا ثبوت وزیراعظم عمران خان کی تقریر ہے۔ ان کا یہ کہنا کہ پاکستان ایک چھوٹا ملک ہے مگر اہم بات یہ ہے کہ ایٹمی قوت ہے جب پاک بھارت جنگ ہوگی جو ساری دنیا اس کی لپیٹ میں آجائے گا۔ گویا عمران خان بڑی قوتوں کو پاک بھارت صلح کرانے پر آمادہ کررہے ہیں۔ انہوں نے دنیا کو یہ سمجھانے کی کوشش کی ہے کہ کشمیر کا کوئی حل ڈھونڈو، ورنہ… پاک بھارت صفحہ ہستی سے مٹ جائیں گے اور ان سے وابستہ مفادات بھی ملیا میٹ ہوجائیں گے۔ اب سوچنے کی بات یہ ہے کہ کشمیر کا ایسا کون سا حل تلاش کیا جائے جو دونوں ممالک کے لیے قابل قبول ہو اور کشمیریوں کو بھی کوئی اعتراض نہ ہو۔
وزیراعظم عمران خان نے دنیا کو یہ سوچنے پر مجبور کردیا ہے کہ اب وقت آگیا ہے کہ کشمیر کا مسئلہ حل کردیا جائے مگر اس کا ایسا حل نکالا جائے جو پاک بھارت کو قبول ہو اور کشمیریوں کی جنگ آزادی بھی مثال بن جائے۔ آثار و قرائن بتارہے ہیں کہ کشمیر کا مسئلہ حل ہونے کے قریب ہے مگر یہ آزادی پاکستان کی آزادی سے بھی زیادہ اذیت ناک ہوگی۔ پاکستان بظاہر ایک خود مختار اور آزاد ملک ہے مگر۔ گستاخی معاف یہ آزادی اور خود مختاری مشروط ہوگی۔ ہم سبھی جانتے ہیں کہ حکمران طبقہ اپنی مرضی سے کچھ نہیں کرسکتا اس کا کردار درآمد ہدایات کا پابند ہوتا ہے جو اس دائرے سے باہر نکلنے کی کوشش کرتا ہے، اسے تخت سے اُتار کر قبر میں اُتار دیا جاتا ہے۔ بھٹو مرحوم اور جنرل ضیا الحق نے بھی اس دائرے کو توڑنے کی کوشش کی تھی، انہیں سامان عبرت بنادیا گیا۔
کہنے والے تو یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ وزیراعظم عمران خان کے جہاز میں ٹیکنیکی خرابی دراصل نیت کی خرابی ہے۔ نیتوں کا حال تو اللہ ہی جانتا ہے مگر اتنا سبھی جانتے ہیں کہ عمران خان کو وزارت عظمیٰ کی مسند پر بٹھانے والوں کو اپنی غلطی کا احساس ہوگیا ہے۔ وہ اپنی غلطی سدھارنا چاہتے ہیں مگر کچھ مقاصد ایسے ہوتے ہیں جو آڑے آجاتے ہیں۔ عمران خان کی عالمی سطح پر شہرت اور دیانت داری کے قصے سن کر انہیں آزمانے کی کوشش کی گئی جو ناکام ہوگئی مگر یہ ناکامی عمران خان کی نہیں جمہوریت کی ناکامی ہے، کیوں کہ جمہوریت اور کرپشن میں چولی دامن کا ساتھ ہے اگر کوئی یہ چاہتا ہے کہ جمہوری نظام میں کرپشن کا خاتمہ کردیا جائے تو یہ اس کے دماغ کا خلل ہے پاگل پن کا علاج تو ممکن ہے مگر دماغی خلل ایک لاعلاج مرض ہے۔ مخالفین کو عمران خان کا ریاست مدینہ بنانے کے عزم پر بھی اعتراض ہے اور ان کا اعتراض خاصا بھاری بھرکم ہے۔ کہتے ہیں کہ طلاق اس وقت ہوتی ہے جب میاں بیوی کے اختلافات اس حد تک بڑھ جائیں کہ ساتھ رہنا ممکن ہی نہ رہے، مگر یہاں معاملہ ہی الٹ ہے۔ محترمہ بشریٰ بی بی اپنے سابق شوہر کی تعریف میں رطب اللسان ہیں اور مرد اول ان کی تعریفیں کرتے نہیں تھکتے تو پھر طلاق کا کیا جواز ہے؟
احکام ترے حق ہیں، اپنے مفسر
تاویل سے قرآں کو بناسکتے ہیں پاژند
اور بدنصیبی یہ بھی ہے کہ وطن عزیز میں ایسے مفسرین کی کوئی کمی نہیں۔