تقریر… نفع نقصان کی میزان میں

101

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں وزیراعظم عمران کی معرکتہ الآرا تقریر پر پورے ملک میں تعریف و تحسین کا وہ شور برپا ہے کہ کان پڑی آواز سنائی نہیں دے رہی۔ لوگ یہ پوچھتے ہوئے بھی ڈر رہے ہیں کہ اس تاریخی تقریر کا عالمی برادری نے کیا اثر قبول کیا۔ جنرل اسمبلی نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کے خلاف کون سی قرار داد منظور کی، بھارت کس حد تک عالمی دبائو میں آیا اور اس نے اہل کشمیر کے خلاف اپنے کون سے اقدامات پر نظرثانی کی۔ کیا مقبوضہ علاقے سے کرفیو اُٹھالیا گیا، کیا ذرائع ابلاغ کو آزادی مل گئی، کیا مقبوضہ علاقے میں معمولات زندگی بحال ہوگئے، بازار کھل گئے، تعلیمی اداروں کی رونق لوٹ آئی اور کیا اغوا شدہ بچے اور نوجوان گھروں کو واپس آگئے؟۔ یہ باتیں پوچھنے والی بھی نہیں اس طرح تو کامیابی کا سارا نشہ کرکرا بلکہ ہرن ہوجائے گا اور اس کی ساری ذمے داری قوم کے فسادی عناصر پر عائد ہوگی جنہیں خان صاحب کی کامیابی ایک آنکھ نہیں بھاتی۔ اس موقع پر ملک کو درپیش مسائل کا ذکر کرنا بھی سراسر حماقت ہے، ایک بیوقوف وزیر خان صاحب کے سامنے روز افزوں مہنگائی کا رونا رو بیٹھا تو خان صاحب نے اسے بری طرح جھاڑا کہ اس کی سُٹّی گم ہوگئی۔ جو حقیقت پسند تجزیہ کار ہیں وہ اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ خان صاحب نے عالمی سطح پر فاشسٹ مودی سرکار کے منہ پر کالک مل دی۔ ہندو فاشزم کا چہرہ پوری دنیا میں بے نقاب کردیا ہے۔ اگرچہ عالمی ضمیر ابھی تک ٹَس سے مَس نہیں ہوا اور کشمیریوں پر ڈھائے جانے والے مظالم میں ذرہ برابر کمی نہیں آئی لیکن یہ کیا کم ہے کہ بھارت پوری دنیا میں بدنام ہوگیا ہے اور عالمی ذرائع ابلاغ نے کشمیر ایشو کو خاص طور پر نمایاں کیا ہے۔
وزیراعظم عمران خان نیویارک میں ایک ہفتے تک مقیم رہے انہوں نے متعدد عالمی لیڈروں سے ملاقاتیں کیں اور انہیں مسئلہ کشمیر پر پاکستان کے تاریخی اور اصولی موقف سے آگاہ کیا۔ انہوں نے امریکی ٹی وی چینلوں کو بھی انٹرویوز دیے اور کھل کر باتیں کیں، اس طرح انہوں نے پاکستان کے عالمی امیج کو نمایاں کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ ایسا پہلے کبھی نہیں ہوا تھا ان کے پیش رو تو امریکی میڈیا کا سامنا کرنے سے کتراتے تھے۔ ایک سابق وزیراعظم تو امریکی صدر سے ملاقات کے موقع پر پرچیوں پر سوالات لکھوا کر لے گئے وہ جس طرح بدہواس ہو کر پرچیاں الٹ پلٹ رہے تھے اس سے امریکی صدر انہیں سننے کے بجائے ان کی بدہواسی سے محفوظ ہورہا تھا۔ اس کے برعکس عمران خان نے نہایت پُراعتماد اور متاثرکن لہجے میں امریکی صدر سے بات کی۔ وہ جولائی میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دعوت پر امریکا گئے تھے۔ یہ خان صاحب کا سرکاری دورہ تھا جس میں امریکی صدر کے ساتھ دوطرفہ تعلقات پر تفصیل سے بات چیت ہوئی وہ اس ملاقات میں ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کا ایشو اُٹھا سکتے تھے۔ قوم کی مظلوم بیٹی جو ’’جرم بے گناہی‘‘ میں طویل قید کی سزا کاٹ رہی ہے جس کے لیے خود عمران خان اقتدار سے پہلے بہت مضطراب تھے انہوں نے عافیہ کی رہائی کو اپنے انتخابی منشور کا بھی حصہ بنایا تھا لیکن جب اقتدار ملا تو وہ اس معاملے سے یوں لاتعلق ہوگئے جیسے یہ کوئی ایشو ہی نہ تھا ان کا یہ طرز عمل نواز شریف، زرداری اور دیگر حکمرانوں سے مختلف نہ تھا۔ زرداری کے دورِ حکومت میں امریکی جاسوس ریمنڈ ڈیوس دو پاکستانیوں کو دن دہاڑے قتل کرکے مسکراتا ہوا پاکستان سے چلا گیا لیکن انہوں نے اس کے بدلے عافیہ کی رہائی میں کوئی دلچسپی نہ لی۔ عمران خان کی امریکی صدر سے دوسری ملاقات جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر نیویارک میں ہوئی جس میں اس نے خان صاحب کو اپنا دوست قرار دیا اور خود خان صاحب نے دعویٰ کیا کہ اس وقت امریکا کے ساتھ پاکستان کے تعلقات تاریخ کی بہترین سطح پر ہیں لیکن افسوس وہ امریکی صدر کی دوستی اور دوطرفہ بہترین تعلقات سے بھی عافیہ کے حق میں فائدہ نہ اُٹھاسکے۔ یہ ان کی ناکامی نہیں تو اور کیا ہے۔
خان صاحب نے بلاشبہ اپنی تاریخ ساز تقریر میں مسلم امہ کو درپیش کئی اہم مسائل پر عالمی برادری کو نہایت موثر انداز میں متوجہ کیا۔ انہوں نے مغربی دنیا میں پھیلتے ہوئے اسلامو فوبیا پر کھل کر بات کی۔ شانِ رسالت مآبؐ پر کوئی سمجھوتا نہ کرنے کے حوالے سے مسلم اُمہ کے جذبات کی نہایت دلیری سے ترجمانی کی اور اہل کشمیر کے ساتھ بھارت جو وحشیانہ سلوک کررہا ہے اس پر تو انہوں نے اپنا دل کھول کر رکھ دیا، لیکن بالآخر انہیں یہ تسلیم کرنا پڑا کہ عالمی رہنمائوں نے انہیں بہت مایوس کیا ہے۔ تاہم بات اتنی سادہ نہیں ہے ہمیںیہ ماننا پڑے گا کہ سفارت کاری کے میدان میں پاکستان کی کارکردگی مایوس کن رہی، وہ عالمی رائے عامہ پر اثر انداز نہ ہوسکا۔ حتیٰ کہ وہ اپنی کمزور سفارت کاری کے سبب مسلمان ملکوں کو بھی اپنا ہمنوا نہ بناسکا۔ وہ او آئی سی سے بھی وہ کام نہ لے سکا جو اس سے لیا جاسکتا تھا۔ اس طرح دیکھا جائے تو خان صاحب کی معرکتہ الآرا تقریر کے باوجود نفع نقصان کی میزان میں نفع کا پلڑا ہلکا نظر آرہا ہے۔ اور ہم کشمیر سمیت کسی معاملے میں بھی کوئی پیش رفت کرنے میں ناکام رہے ہیں ہم تقریر کا ڈھول آخر کب تک پیٹتے رہیں گے۔