کے ایم سی میں بھرتیوں کوعدالت کی قائم کردہ کمیٹی نے درست قراردیا‘سجن یونین

89

کراچی(اسٹا ف رپورٹر)سجن یونین (سی بی اے)کے ایم سی کے مرکزی صدرسیدذوالفقارشاہ نے وزیربلدیات سیدناصر شاہ کے اس بیان جس میں انہوں نے کہا کہ کے ایم سی میں 10 ہزار ملازمین غیر قانونی اور جعلی طریقے سے بھرتی کیے گئے ہیں پراپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کے ایم سی ملازمین کی اکثریت کا تعلق 1980ء سے لیکر 1997 ء تک کا ہے جبکہ آخری بار 2009ء میں نئے تخلیق کردہ سٹی وارڈن ،مشینری پول ،اربن سرچ اینڈ ریسکیو میں سٹی گورنمنٹ کو حاصل اختیارات کے تحت بھرتی کی گئی تو بھرتی غیر قانونی یا جعلی کسطرح سے ہوگی ۔اس سلسلے میں باقاعدہ اخبارمیں اشتہار دیکر درخواستیں طلب کی گئیں ۔کمیٹی قائم کرکے اسکی سفارشات پر بھرتی کی گئی اس سلسلے میں سندھ ہائی کورٹ کے حکم پر قائم اعلیٰ اختیاراتی کمیٹی نے ملازمین کے ریکارڈ کی چھان بین کی چند ایک کے علاوہ باقی ملازمین کا ریکارڈ درست پایا گیا ۔جبکہ وقتاًفوتتاًمختلف تحقیقاتی اداروں نے بھی کے ایم سی کے ملازمین کا ریکارڈ چیک کیا ۔یونین گھوسٹ جعلی اور غیر قانونی بھرتی کے پہلے بھی مخالف تھی اور آئندہ بھی اس عمل کی مخالفت کرے گی۔ بے بنیاد الزام تراشی سے ملازمین میں صوبائی حکومت کے خلاف نفرت پھیلتی ہے لہٰذایسے عمل سے گریز کیا جائے ۔