جسٹس فائز عیسیٰ کے وکیل کی مہلت دینے کی درخواست مسترد۔کام متاثرہورہا ہے‘ عدالت عظمیٰ

141

اسلام آباد( خبرایجنسیاں)عدالت عظمیٰ نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے وکیل کو مقدمے کی تیاری کے لیے 2ہفتوں کی مہلت دینے کی درخواست مسترد کر دی ہے۔منگل کو 10 رکنی فل بینچ نے جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی صدارتی ریفرنس کے خلاف درخواست سمیت 17 متفرق درخواستوں پر سماعت کی، اس دوران اٹارنی جنرل پاکستان، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے وکیل منیر اے ملک اور دیگر لوگ پیش ہوئے۔سماعت کے دوران جسٹس عمر عطاء بندیال نے ریمارکس دیے کہ ساتھی ججز کا اعتراض کے باعث کیس سے الگ ہونا تکلیف دہ امر ہے، اس مقدمے کی وجہ سے عدالت عظمیٰ کا کام متاثر ہو رہا ہے، جسٹس فائز عیسیٰ کے وکیل منیر ملک نے کہا کہ یہ صرف جسٹس عیسیٰ کا مقدمہ نہیں بلکہ پوری عدلیہ کا ٹرائل ہے۔انہوں نے کہا کہ مجھے موکل سے ہدایات لے کر مقدمے کی تیاری کرنی ہے جس کے لیے 2ہفتوں کی مہلت دی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کیس میں ایسی بھی کیا ایمرجنسی ہے، میں کہیں نہیں بھاگ رہا۔جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہا کہ کیس عوامی اہمیت کا ہے۔ آپ کی بیماری کی وجہ سے پہلے ہی یہ مقدمہ دو ہفتوں کی تاخیر کا شکار ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں آپ کو یہ بھی بتا چکا کہ 2ہفتوں کے بعد ایک ساتھی جج نہیں ہوں گے، ہمارے ایک ساتھی جج پر الزام لگا ہے اور اس کیس سے عدالت عظمیٰ کا کام متاثر ہو رہا ہے،لوگوں کو یہ پریشانی ہے کہ یہ کیس کیوں سنا جارہا ہے۔منیر اے ملک نے اعتراض اٹھایا کہ سپریم جوڈیشل کونسل کا جواب اٹارنی جنرل نے جمع کرایا ہے، کیا سپریم جوڈیشل کونسل کی نمائندگی اٹارنی جنرل کریں گے؟جسٹس عمر عطاء بندیال نے ریمارکس دیے کہ اصولوں کی بنیاد پر کیس لڑیں، بنیادی باتوں میں نہ پڑیں۔ انہوں نے کہا کہ سپریم جوڈیشل کونسل آئین کے تحت کام کرنے والا اعلیٰ ترین ادارہ ہے۔ ہمیں آئین کے تحت کام کرنے والے اداروں کا احترام برقرار رکھنا ہے۔عدالت نے مزید سماعت آئندہ پیر تک ملتوی کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ اگر وفاق نے جواب جمع نہ کرایا تو سمجھیں گے کہ کوئی جواب نہیں ہے۔دوسری جانب سپریم جوڈیشل کونسل نے اپنا جواب سپریم کورٹ میں جمع کرا دیا ہے جس میں جسٹس قاضی فائز عیسٰی کے الزامات کو مسترد کیا گیا ہے۔ جوڈیشل کونسل نے اپنے جواب میں کہا ہے کہ کسی بھی جج کے خلاف صدارتی ریفرنس کی بنیاد پر انکوائری کرنا کونسل کی آئینی ذمہ داری ہے۔جوڈیشل کونسل کا کہنا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 5 کے علاوہ کوڈ آف کنڈکٹ اور ججز حلف کے تحت کونسل پر صدارتی ریفرنس کی بنیاد پر کارروائی کرنا لازم ہے۔ جوڈیشل کونسل کا کہنا تھا کہ عدلیہ کی آزادی اور عدلیہ کا احتساب ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔ کونسل کی ریفرنس پر کارروائی غیر جانب دارانہ اور کسی بھی قسم کے تعصب سے پاک ہے۔بعد ازاں حکومت نے بھی عدالت عظمیٰ میں جواب جمع کرادیا جس میں کہا گیا ہے کہ جائداد بناتے وقت جسٹس فائز عیسی کی اہلیہ اور بچوں کی آمدن کے ذرائع نہیں تھے اور وہ اس سوال سے بچنے کے لیے حیلے اور بہانے بنا رہے ہیں،صدارتی ریفرنس بدنیتی پر مبنی نہیں، صدر مملکت نے ریفرنس دائر کرکے اپنی آئینی ذمے داری پوری کی، شواہد کے بغیر ریفرنس بدنیتی پر مبنی قرار دینے کی کوئی حیثیت نہیں جب کہ ججز کے خلاف ریفرنس سے عدلیہ کمزور ہوگی نہ اس کے وقار پر حرف آئے گا۔جواب میں کہا گیا کہ جسٹس فائز عیسٰی مختلف حیلے بہانوں کے ذریعے جوڈیشل کونسل کی تحقیقات سے بچنا چاہتے ہیں، وہ اصل سوال سے بچنا چاہتے ہیں کہ پیسہ باہر کیسے منتقل کیا گیا، ان کے پاس بچاؤ کا واحد راستہ اہلیہ اور بچوں کے ذرائع آمدن ظاہر کرنا ہے، یہ کہنا کہ قانون کی ہر خلاف ورزی کوڈ آف کنڈکٹ کے خلاف نہیں عدلیہ کا امیج تباہ کرے گا۔ حکومت نے جواب میں یہ بھی کہا کہ جسٹس فائز عیسیٰ کا اپنے خلاف شکایت کو پراکسی کہنا مفروضے پر مبنی ہے، شکایت کنندہ کے ماضی اور کنڈکٹ کا جائزہ جوڈیشل کونسل قانون کے مطابق لے گی، سپریم جوڈیشل کونسل نے ممبران اپنا آئینی فریضہ انجام دے رہے ہیں۔ سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی کا عدالتی جائزہ نہیں لیا جاسکتا، سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی کو آرٹیکل 211 کے تحت استثنا حاصل ہے۔