گیس اور پیٹرولیم کمپنیز میں مقامی لوگوں کی بھرتی سے متعلق درخواست کی سماعت

56

کراچی (نمائندہ جسارت) سندھ ہائیکورٹ میں سندھ میں گیس اور پیٹرولیم کمپنیز میں مقامی لوگوں کی بھرتی، گیس کی فراہمی سے متعلق درخواست کی سماعت ، عدالت نے سندھ حکومت سے تفصیلی رپورٹ طلب کرتے ہوئے سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردی۔سماعت کے موقع پر چیف سیکرٹری سمیت 16 اضلاع کے ڈپٹی کمشنر عدالت میں پیش ہوئے دوران سماعت عدالت نے ڈپٹی کمشنر مٹیاری کو روسٹر پر طلب کرتے ہوئے استفسار کیا کہ آپ نے جو فنڈز استعمال کئے کیا وہ گائیڈ لائن کے مطابق تھے؟سوال پرڈپٹی کمشنر غلام حیدر چانڈیو عدالتی سوال پر ہکا بکا رہ گئے تاہم عدالتی عملے نے انگریزی سے اردو میں ترجمہ کرکے سوال ڈپٹی کمشنر کو بتایا عدالت نے استفسار کیا کہ آپ کمیشن پاس ہیں یا سیاسی سفارش پر بھرتی ہوئے ہیں ، جس کا ڈپٹی کمشنر کوئی جواب نہیں دے پائے،عدالت نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ آپ جیسے افسراں سرکاری خزانے پر بوجھ ہیں، یہ سب ناقابل قبول ہے چیف سیکرٹری کہاں ہیںیہ کیسے نااہل لوگوں لگائے ہیں جن کو اپنے کام کا پتا نہیں ہے، عدالت نے چیف سیکرٹری سے استفسار کیا کہ کیا ان ڈپٹی کمشنر کو سفارش پر تعینات کیا گیا ہے، آئندہ کسی بھی ڈپٹی کمشنر نے عدالتی احکامات میں غفلت برتی تو ذمے داری آپ کی ہوگی،جو غفلت کرے اس عہدے سے معطل کرکہ ہٹا دیں ،عدالت میں اوگرا چیئر پرسن ایم ڈی سوئی گیس ایڈووکیٹ جنرل بھی پیش ہوئے ایڈووکیٹ جنرل سندھ کا کہنا تھا کہ گیس فیلڈ کے 5 کلو میٹر کے دائرے میں آنے والے گاؤں کو گیس فراہمی کا کوئی قانون نہیں ہے وفاقی حکومت کے وکیل کا کہنا تھا کہ عدالت عظمیٰنے قانون کے مطابق عملدرآمد کا حکم دے رکھا ہے ،چیئرمین اوگرا کا کہنا تھا کہ 528 گاؤں کو گیس فراہم کرنی ہے،اب تک 126 گاؤں کو گیس فراہم کی جا چکی ہے ،عدالت نے سندھ حکومت سے تفصیلی رپورٹ طلب کرتے ہوئے سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردی۔
اوگرا