کوٹری،محکمہ انسداد تجاوزات کی غفلت ،شہریوں کا پیدل چلنا مشکل

80

کوٹری (نمائندہ جسارت) بلدیاتی، انسداد تجاوزات اور پولیس کی غفلت ولاپروائی کے سبب کوٹری میں تجاوزات کا جن بے قابو، تجارتی وشہری علاقوں میں پتھاریداروں اور غیرقانونی اسٹینڈ نے شہریوں کا پیدل چلنا دوبھر کردیا، پولیس،بلدیاتی اور انسداد تجاوزات عملہ پر رشوت وصولی کا الزام، شہری وسماجی حلقوں کا تجاوزات کے خاتمے کا مطالبہ۔ کوٹری کی مرکزی تجارتی شاہراہ اور شہری علاقوں میں غیر قانونی اڈوں اور جگہ جگہ پتھاریداروں کی بھر مار نے شہر کا حلیہ بگاڑ کر رکھ دیا ہے اور شہریوں کو آمدورفت میں شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑرہا ہے تجاوزات کے جن نے شہریوں کا پیدل چلنا بھی دو بھر کردیا ہے۔ ذرائع کے مطابق کوٹری سوزکی اسٹینڈ اور کار اسٹینڈ کی غیرقانونی قیام کے عوض سرکاری اداروں کے اہلکار بھاری نذرانہ وصول کرتے ہیں جس کی وجہ سے متعدد بار کارروائی کے باوجود مذکورہ اڈوں سے غیرقانونی عمل کو ختم نہیں کیا جاسکا ہے۔ اسی طرح کوٹری کے شہری علاقے شیدی محلہ، گارڈن روڈ اور سبزی مارکیٹ کے اطراف گاڑیوں کے غیر قانونی اڈے قائم ہوچکے ہیں، جس کیخلاف متعلقہ حکام کارروائی کرنے سے گریزاں نظر آتے ہیں۔ بتایا جاتا ہے بلدیہ کوٹری اور انسداد تجاوزات عملہ مبینہ رشوت وصولی کے عوض خاموش تماشائی بنا ہوا ہے، جس کی وجہ سے شہری وکاروباری حضرات کو آمدورفت میں دشواری اٹھانا پڑتی ہے اور ٹریفک جام رہنا معمول بن گیا ہے۔ اس ضمن میں کوٹری شہری اتحاد کے رہنما زاہد بلوچ اور شاہد کاظمی نے کہا ہے کہ کوٹری میں سرکاری اداروں نے بھاری رشوت کے عوض تجاوزات کے خاتمے کے لیے اپنی آنکھیں موند لی ہیں، جس سے شہر کی خوبصورتی بگڑتی جارہی ہے۔ انہوں نے وزیر اعلی سندھ اور ڈپٹی کمشنر جامشورو سے مطالبہ کیا ہے کہ کوٹری میں کراچی کی طرز پر تجاوزات کیخلاف آپریشن کیا جائے اور شہر کو اپنی پرانی حیثیت میں بحال کرایا جائے، بصورت دیگر تجاوزات کے خاتمے کے لیے عدالت عظمیٰ سے رجوع کیا جائے گا۔ اس سلسلے میں ایس ایس پی جامشورو امجد شیخ اور چیف میونسپل آفیسر خدا بخش سے رابطہ کیا گیا مگر انہوں نے کال موصول نہیں کی اور وہ اپنے دفاتر میں بھی موجود نہیں تھے۔