ٹنڈوالہٰیار، رہائشی علاقوں میں بھینسوں کے باڑوں کی بھرمار

72

ٹنڈوالہٰیار (نمائندہ جسارت) عدالت کے احکامات، ضلعی انتظامیہ کے سامنے بھینس کے آگے بین بجائے کے مترادف ٹنڈوالہٰیار شہر کے رہائشی علاقوں میں بھینسوں کے باڑوں کی بھر مار، ضلعی انتظامیہ نے باڑے باہر منتقل کرنے کے ڈسٹرکٹ کورٹ کے احکامات کو ہوا میں اڑا دیا، جگہ جگہ فضلے کے ڈھیر بیماریوں اور تعفن کا راج، شہری اذیت میں مبتلا۔ بھینسوں کے باڑوں کیخلاف شہری کی پٹیشن پر ڈسٹرکٹ کورٹ ٹنڈوالہٰیار نے شہر کے رہائشی علاقوں سے بھینسوں کے باڑوں کو باہر منتقل کرنے کے واضح احکامات صادر کیے تھے جوکہ ضلعی انتظامیہ ٹنڈوالہٰیار نے ہوا میں اڑا دیا اور بھینسوں کے باڑے جوں کے توں رہائشی علاقوں کشمیری کالونی، منصور کالونی، عباس بھائی کالونی، شہباز کالونی، پیر کالونی، نواب کالونی، گلشن حمید کالونی، اکبری کالونی، قلعہ ایریا، انڑ پاڑہ، خانزادہ کالونی، مجاہد کالونی، اکرم کالونی، بھیل کالونی، ناگوری پلاٹ، مدینہ کالونی، خواجہ اجمیر کالونی، ابرہیم کالونی، میر کی گوٹھ، کالی کا مندر، زرداری کالونی، طالب المولیٰ کالونی سمیت دیگر رہائشی علاقوں میں 100 سے زائد بھینسوں کے باڑوں کا راج ہے، جس کی وجہ سے جگہ جگہ فضلے کے ڈھیر کے باعث گندگی اور تعفن کا راج ہے، جس کی وجہ سے مکھی، مچھر اور دیگر حشرات الارض کی افزائش میں اضافہ، ملیریا، ٹائیفائیڈ، ڈائریا، امراض چشم، جلد کی بیماریوں میں اضافے کا باعث بن رہے ہیں۔ اس کے علاوہ بھینسوں کے فضلے کو نالے نالیوں میں بہایا جاتا ہے، جس کی وجہ سے اکثر نکاسی آب کا نظام جام ہوجاتا ہے اور بھینسوں کے ریوڑ کو شہر کے وسط میں حیدر آباد، میر پور خاص روڈ پر سے گزار کر نصیر کنال پر نہلانے کے لیے روزانہ لے جایا جاتا ہے جس کی وجہ سے ٹریفک جام اور حادثات کا سبب بھی بنتے ہیں، اس کے باوجود ضلعی انتظامیہ، میونسپل کمیٹی ٹنڈوالہٰیار اور دیگر ذمے داران کسی قسم کی کارروائی کرنے سے گریزاں ہیں۔