سینیٹ کمیٹی نے القاعدہ کی تربیت سے متعلق وزیراعظم کے بیانات پر وضاحت طلب کرلی

81

اسلام آباد ( آن لائن ) قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق نے سیکورٹی اداروں کی جانب سے القاعدہ کو تربیت دینے سے
متعلق وزیراعظم کے بیانات کی وضاحت طلب کرلی ہے۔قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کا اجلاس بلاول بھٹو کی صدارت میں ہوا۔اس موقع پر وزارت خارجہ کے حکام بھی پیش ہوئے اورمقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر بریفنگ دی ۔وزارت خارجہ کے حکام نے وزیراعظم کے حالیہ دورہ امریکا پر بھی بریفنگ دی۔ کمیٹی کے چیئرمین نے پاکستان کو 58 ممالک کی حمایت حاصل ہونے سے متعلق بھی سوال اٹھایا تو وزارت خارجہ کے حکام نے بتایا کہ قرارداد پیش کرنا اتنا آسان نہیں، یہ ایک تکنیکی معاملہ ہے، ہم نے سمجھا کہ یہ قرارداد پیش کرنے کا مناسب وقت نہیں۔ اجلاس کے دوران وزیراعظم کا القاعدہ اور سیکورٹی اداروں کی جانب سے جنگجوؤںکو تربیت دینے سے متعلق بیان کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔بلاول نے کہا کہ القاعدہ سے متعلق جو سوال کیا گیا، اس کی وضاحت کریں، وزیراعظم کی جانب سے وضاحت آئے نہ آئے لیکن وزارت خارجہ کو معاملے کی وضاحت کرنی چاہیے۔انہوںنے کہا کہ اس قسم کے بیانات سے پاکستان کی خارجہ پالیسی پر سوال اٹھتا ہے، القاعدہ سے متعلق بیان زبان پھسلنا ہوسکتا ہے لیکن اس پر وضاحت ضروری ہے۔ان کا کہنا تھاکہ نائن الیون کا تو پاکستان پر کبھی الزام ہی نہیں لگا، لہٰذا القاعدہ اور فوجی تربیت سے متعلق بیان پر وضاحت آنی چاہیے۔
سینیٹ کمیٹی