قومی ٹیم کا کپتان کم از کم ایک سال کے لئے بنایا جائے،معین خان

66

میرپور خاص (بیورو رپورٹ) قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان معین خان نے کہا ہے کہ پاکستان ٹیم کے کپتان کم از کم ایک سال کے لئے بنایا جائے سیریز ٹو سیریز کپتان بنانا اچھا فیصلہ نہیں ہوتا اس طرح کے فیصلوں سے کھلاڑیوں کا کپتان پر اعتماد بحال نہیں ہوتا ، سرفراز احمد کو اپنی کارکردگی میں بہتری لانی چاہیئے تاکہ وہ ٹیم میں اپنی مستقل جگہ بنانے کے ساتھ کپتان کے لئے بھی موضوع رہ سکیں۔ پیر کو یہاں جاری کردہ اعلامیہ کے مطابق ان خیالات کا اظہار انہوں نے میرپورخاص میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ معین خان نے کہا کہ کرکٹ کے نئے ڈھانچے اور ڈپارٹمنٹ کرکٹ ختم ہونے سے کرکٹرز بے روزگار ہوجائیں گے ملک میں ڈومیسٹک کے لئے 6 ٹیمیں کم ہیں کیونکہ ہماری آبادی بہت زیادہ ہے اور یہاں جو کرکٹ کا ڈھانچا تشکیل دیا گیا ہے وہ آسٹریلیا کو دیکھ کر بنایا گیا ہے لیکن آسٹریلیاکی ٹوٹل آبادی صرف دو کروڑ ہے گریڈ ون میں زیادہ ٹیموں کو شامل کیا جا نا چاہیئے اور ڈپارٹمنٹ کرکٹ کو بھی چلتا رہنا چاہیئے اگر ایسا نہ ہوا تو اس ڈھانچے سے کرکٹ میں بہتری نہیں بلکہ کرکٹ ختم ہوگی وقار یونس کے کوچ بنائے جانے کے سوال پر معین خان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے فاسٹ بالرز کو وقار یونس سے فائدہ اٹھانا چاہیئے مصباح الحق کو ہیڈ کوچ اور چیف سلیکٹر کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر انہوں نے کہا کہ مصباح الحق میں پوری صلاحیت ہے اور وہ اہلیت بھی رکھتے ہیں لیکن اس پوسٹ پرلوگ عزت سے آتے ہیں لیکن واپس عزت سے نہیں جاتے لیکن میری دعا ہے کہ وہ عزت سے رہیں انہیں پورا ٹائم دینا چاہیئے اور تمام کھلاڑیوں کی انکے ساتھ پوری طرح سے ہم آہنگی ہے مجھے امید ہے کہ پاکستان ٹیم انکی سرپرستی میں کامیابیاں حاصل کرے گی ،پاکستان میں غیر ملکی ٹیموں کا آنا خوش آئند ہے زمبابوے یہاں کے جاچکی ہے سری لنکا ابھی پاکستان کے دورے پر ہے جبکہ ورلڈ الیون اور پی ایس ایل میں بھی غیر ملکی کھلاڑی پاکستان میں کھیل کر جا چکے ہیں پاکستان میں اب خطرے کی کوئی بات نہیں ٹیموں کو فول پروف سیکیو ریٹی دی جا رہی ہے اور اب دیگر ممالک کی ٹیمیں بھی پاکستان کے دورے پر آئیں گی۔