سی پیک اتھارٹی قائم کرنے کے لیے صدارتی آرڈیننس لانے کافیصلہ

53

 

اسلام آباد(صباح نیوز) حکومت نے سی پیک اتھارٹی قائم کرنے کے لیے صدارتی آرڈیننس لانے کافیصلہ کرلیا ۔ مسودہ منظوری کے لیے صدر پاکستان کوبھجوا دیا گیا ہے جب کہ آرڈیننس کا اطلاق پورے پاکستان میں ہوگا۔ مسودہ کے مطابق سی پیک اتھارٹی 10ارکان پرمشتمل ہوگی، وزیر اعظم4 سال کے لیے اتھارٹی کے چیئرپرسن، ایگزیکٹو ڈائریکٹرز اورارکان کی تعیناتی کریں گے، اتھارٹی کا چیف ایگزیکٹو20گریڈ کا سرکاری افسرہوگا اور دفتراسلام آباد میں
قائم کیا جائے گا، سی پیک سے متعلق کوئی بھی فیصلہ اتھارٹی کے اکثریتی ارکان کی منظوری سے ہوگا۔اتھارٹی پاکستان اورچین کے مابین مختلف شعبوں میں تعاون کا تعین کرے گی، جس کے ساتھ جوائنٹ کوآپریشن کمیٹی اورجوائنٹ ورکنگ گروپ کے درمیان موثررابطے کا کردارادا کرے گا۔ اتھارٹی رولزکے مطابق سی پیک بزنس کونسل قائم کرے گی اور اسے اپنے ماتحت ملازمین کے تقرر کا بھی اختیار حاصل ہوگا۔مسودہ میں کہا گیا کہ سی پیک اتھارٹی کے لیے بجٹ مختص ہوگا، اتھارٹی سی پیک سے متعلق کوئی بھی تفصیلات طلب کرنے کی مجازہوگی اور ہرسال اپنی مالی رپورٹ وزیر اعظم کو جمع کروائے گی، اس کے علاوہ پاکستان اورچین کے مابین مفاہمتی یادداشتوں کے مطابق کام کرے گی، سی پیک منصوبوں سے مستفید ہونے والا کوئی بھی شخص اتھارٹی کا حصہ نہیں ہوگا۔اتھارٹی سی پیک منصوبوں کے حوالے سے صوبوں اوروزارتوں کے درمیان رابطہ کاری کرے گی۔