ـ5500 ارب روپے کا ریوینیو ٹارگٹ پورا نہیں ہوگا،میاں زاہد حسین

98

کراچی(اسٹاف رپورٹر)پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولز فور م وآل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدر ،بزنس مین پینل کے سینئر وائس چیئر مین اور سابق صوبائی وزیر میاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ کاروباری سرگرمیوں اور ڈیمانڈ کو محدود کرکے معاشی استحکام کے حصول کی پالیسی نا قا بل عمل ہے۔ آئی ایم ایف کی ایماء پر مارکیٹ میں ڈیمانڈ کا گلا گھونٹا جا رہا ہے جس سے صنعتی پیداوار کی مانگ کم ہو گئی ہے اورلا رج اسکیل انڈسٹری بند ہو رہی ہے جس سے روز بروز بے روزگاری اوربے چینی پھیل رہی ہے۔مانیٹری پالیسی کو ہر مسئلے کا حل سمجھنے والوں نے شرح سود کو اتنا بڑھا دیا ہے کہ اس سے کاروباری برادری کی رہی سہی امید بھی ختم ہو گئی ہے اور وہ اب کاروبار کو دیوالیہ پن سے بچانے کی جدوجہد میں مصروف ہیں۔ میاں زاہد حسین نے بز نس کمیونٹی سے گفتگو میں کہا کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی کے باوجود حکومت نے ملک میں تیل کی قیمتیں برقرار رکھی ہیں جبکہ بجلی کی قیمت میں دو دن میں دو بار اضافہ کر کے ایک نیا ریکارڈ قائم کیا گیاہے جس سے کاروبار کی لاگت مزید بڑھ جائے گی اور عوام کو مزید بوجھ اٹھانا پڑے گا۔انھوں نے کہا کہ کاروباری برادری مزید صبر نہیں کر سکتی کیونکہ انھیں کافی عرصہ سے یقین دہانیاں کروائی جا رہی ہیں مگر ماحول کو سازگار بنانے کے لیے ٹھوس اقدامات نہیں کیے جا رہے ہیں۔انھوں نے کہا کہ برآمد کنندگان کو ریفنڈ کی ادائیگی اس طرح تیزی سے نہیں کی جا رہی ہے جیسا کہ اعلان ہوا تھا جس کی وجہ سے انھیںسرمائے کی قلت کا سامنا ہے۔میاں زاہد حسین نے کہا کہ اعلیٰ سطح پرنہا یت مناسب اوربروقت فیصلے کیے جا رہے ہیں مگر بیوروکریسی ان پرعمل کرنے کو تیار نہیں جبکہ دوسری طرف پرجوش احتسابی عمل کو معیشت سے زیادہ اہم سمجھنے کی غلطی پورے جوش و خروش سے دہرائی جا رہی ہے جس کا کوئی نتیجہ نہیں نکلنا۔ بجٹ خسارہ کم کرنے کے لیے پیداوار کو محدود کرنا آئی ایم ایف کا ایسا نسخہ ہے جو ہمیں بہت جلد دوبارہ کشکول اٹھانے پر مجبور کر دے گا۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور وزیر اعظم عمران خان نے کاروباری برادری کوصورتحال بہتر کرنے میں تعاون کی یقین دہانی کروائی ہے جو خوش آئند ہے جس پر جتنی جلدی ممکن ہو عمل کیا جائے تاکہ بیروزگاری اور بے چینی کم کی جا سکے۔ انھوں نے کہا کہ حکومت اور اپوزیشن کے مابین ماہ رواں میں میچ متوقع ہے جس کی تیاریاں کی جا رہی ہیں۔ممکنہ سیاسی کشیدگی سے سب سے زیادہ ملکی نقصان معیشت اور عوام کا ہوگا۔وز یر اعظم عمران خان کے دورہ چین میں کوشش کی جانی چاہیے کہ ایرا ن کی طر ز پر سیکڑوں ارب ڈالر کی چائینیز انویسٹمنٹ پاکستان آسکے تاکہ IMFپر انحصار ختم ہوسکے۔