میرپورخاص: اشیا خوردنوش کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافہ شہری پریشان

147

 

میرپورخاص (نمائندہ جسارت) زائد منافع کی لالچ میں ذخیرہ اندوز تاجروں اور دکانداروں نے آٹے، سبزیوں، فروٹ اور دیگر اشیا خورونوش کی قیمتیں آسمان پر پہنچا دی گئیں، چند روز میں قیمتوں میں 60 فیصد تک اضافہ، جبکہ آٹے کی قیمتوں میں من مانہ اضافہ کرتے ہوئے 50 روپے فی کلو کردیا گیا، سبزیوں اور فروٹ کے نرخوں میں 40 سے 60 روپے کا اضافہ ہوگیا۔ اشیائے خورونوش غریب آدمی کی قوت خرید سے باہر ہوگئیں، حکومت ذخیرہ اندوزوں اور زائد منافع کمانے والوں کیخلاف سخت کارروائی کرے۔ اس حوالے سے پاکستان تحریک انصاف میر پورخاص کے رہنما ملک عبدالغفار نے صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ رواں سال حکومت سندھ کی جانب سے سرکاری سطح پر گندم کی خریداری نہ کرنے کی وجہ سے صوبے بھر میں منافع خوروں اور ذخیرہ اندوزوں نے آٹے کی قیمتوں میں من مانے اضافے کردیے ہیں جس کی وجہ سے غریب آدمی سخت پریشان ہے۔ انہوں نے کہا کہ گندم کے سیزن میں حکومت کی جانب سے سرکاری طور پر گندم کی خریداری نہ کرنے کا نجی تاجروں نے فائدہ اٹھایا اور آبادگاروں سے ایک ہزار پچاس روپے سے لے کر گیارہ سو روپے فی من گندم خریدی تھی اور زائد منافع کے لالچ میں بڑے پیمانے پر گندم ذخیرہ کرنے کے بعد گندم کے تاجر مارکیٹوں میں گندم 1600 سے 1800 روپے فی من فروخت کررہے ہیں اور مارکیٹوں اور دکانوں پر 40 سے 42 روپے کلو والے آٹے کی فی کلو قیمت پچاس روپے کردی۔ انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ سبزیوں، فروٹ اور اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں بھی 40 روپے سے 60 روپے فی کلو اضافہ ہوگیا ہے، جس کی وجہ سے غریب آدمی اس مہنگائی کے دور میں سخت پریشان ہوگیا اور ضلع بھر میں پرائس کو کنٹرول کرنے والی مارکیٹ کمیٹی بھی ان ذخیرہ اندوزوں اور منافع خور تاجروں اور دکانداروں کے سامنے بے بس بنی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ بھر میں کسان پریشان ہے اسے ان کی فصلوں کے درست ریٹ نہیں ملتے لیکن ذخیرہ اندوز تاجر، مڈل مین راتوں رات امیر سے امیر ہوتے چلے جارہے ہیں اور مارکیٹوں سے چیزیں غائب کر کے مہنگائی میں اضافہ کررہے ہیں۔ انہوں نے وزیر اعظم پاکستان عمران خان سے مطالبہ کیا کہ منافع خور اور ذخیرہ اندوز تاجر اور دکانداروں کیخلاف کارروائی عمل میں لائی جائے اور غریب عوام کو اس من مانی مہنگائی سے نجات دلائی جائے۔