بحیرہ روم میں کشتیاں ڈوب گئیں،13 ہلاک درجنوں لاپتا

52
اٹلی: بحیرۂ روم میں حادثے کا شکار ہونے والوں کی لاشیں اور بچائے گئے تارکین وطن کو اطالوی بندرگاہ پر اتارا جارہا ہے
اٹلی: بحیرۂ روم میں حادثے کا شکار ہونے والوں کی لاشیں اور بچائے گئے تارکین وطن کو اطالوی بندرگاہ پر اتارا جارہا ہے

روم (انٹرنیشنل ڈیسک) بحیرئہ روم میں تارکین وطن کی کشتی ڈوبنے کے نتیجے میں 13افراد ہلاک اور کئی لاپتا ہوگئے۔ اطالوی حکام کا کہنا ہے کہ لامپیڈوسا نامی جزیرے کے قریب کشتی الٹ گئی ، جس پر 50مہاجر سوار تھے۔ کوسٹ گارڈز کو سمندر سے 13لاشیں ملیں، جن میں اکثر خواتین کی ہیں۔ حکام کے مطابق حادثے کے بعد سے 8 بچوں سمیت کئی افراد لاپتا ہیں، جن کی تلاش کے لیے کارروائی کی جارہی ہے ۔ کوسٹ گارڈز نے لیمپیڈوسا سے 6 ناٹیکل میل دور امدادی کارروائیوں کے دوران 22افراد کو ڈوبنے سے بچایا۔ اطالوی میڈیا کے مطابق کشتی پر گنجایش سے زیادہ افراد سوار تھے، جس کے باعث حادثہ پیش آیا۔ کشتی تیونس سے روانہ ہوئی تھی، جس پر تیونسی شہریوں کے ساتھ صحارا خطے کے افریقی بھی سوار تھے۔ لامپیڈوسا جزیرے کے میئر کا کہنا تھا کہ بحیرئہ روم میں ہلاکتوں کا باعث بننے والے انسانی اسمگلروں کے خلاف کارروائی ناگزیر ہوچکی ہے۔ مہاجرین کو اس طرح کھلے سمندر میں مرنے کے لیے نہیں چھوڑ ا جاسکتا۔ دوسری جانب اسپین کی امدادی تنظیم ’اوپن آرمز‘ کے کارکنوں نے کھلے سمندر سے 44 تارکین وطن کو بچا لیا، جو یورپی یونین کے رکن ممالک کے ساحلوں کی طرف سے جانے کی کوشش میں تھے۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق بچائے گئے تارکین میں ایک شیرخوار بچہ بھی شامل ہے۔ جرمنی کی امدادی تنظیم کا کہنا تھا کہ تارکین وطن لکڑی کی ایک غیر محفوظ کشتی پر سوار تھے۔ انہیں اتوار کی شب اطالوی جزیرے لامپیڈوسا کے ساحلوں سے 50 کلومیٹر دور سمندر میں ڈوبنے سے بچایا گیا۔ خیال رہے کہ شمالی افریقا کے ساحلوں سے جنوبی یورپ پہنچنے کے لیے ہر سال ہزاروں تارکین وطن بحیرۂ روم کا خطرناک سفر کرتے ہیں اور اس کوشش میں ہزاروں ڈوب کر جان کی بازی ہار جاتے ہیں۔