چیئرمین نیب کے والدین کے قتل میں سزائے موت پانے والے 3 ملزمان بری

133

لاہور(نمائندہ جسارت)لاہورہائی کورٹ کے 2 رکنی بینچ نے چیئرمین نیب جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کے والدین کے قتل میں سزائے موت پانے والے3 ملزمان کو ناکافی ثبوتوں کی بنیاد پر بری کر دیا۔ لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس صداقت علی خان کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے ملزمان نوید اقبال، عباس اور امین کی اپیل پر سماعت کی، جس میں ٹرائل کورٹ کی سزا کو چیلنج کیا گیا، ملزمان پر 2011 ء میں لین دین کے
تنازع پر چیئرمین نیب کے والدین کو قتل کرنے کا الزام تھا اور ٹرائل کورٹ نے 2016 ء میں سزا سنائی۔ دوران سماعت درخواست گزاروںکے وکیل نے عدالت عالیہ میں نشاندہی کی کہ پولیس نے ملزمان کو شک کی بنیاد پر گرفتار کیا اور ملزمان کے خلاف ٹھوس شواہد پیش نہیں کیے گئے، اپیل کنندگان کے خلاف شہادتیں بھی موجود نہیں ہیں۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ ٹرائل کورٹ نے 2016ء میں حقائق کے برعکس سزائے موت سنائی لہٰذا ٹرائل کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے اور ناکافی شواہد پر ملزمان کو بری کیا جائے۔ پولیس تفتیش کے مطابق جسٹس (ر) جاوید اقبال کے والدین کو 2011 ء میں قتل کیا گیا تھا، قتل کے الزام میں جاوید اقبال کے سوتیلے بھائی نوید اقبال کو گرفتار کیا گیا۔پولیس کے مطابق نوید اقبال کی نشاندہی پر باقی ملزمان عباس اور امین کو بھی گرفتار کیا گیا تھا، ملزمان گھر سے رقم چوری کرنے آئے تھے تاہم مزاحمت پر جاوید اقبال کے والدین کو قتل کردیا گیا۔عدالت نے درخواست گزاروں کے وکیل کے دلائل مکمل ہونے پر ناکافی شواہد کی بنیاد پر چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال کے بھائی نوید اقبال سمیت دیگر 2 ملزمان عباس اور امین کو بری کردیا۔ واضح رہے کہ چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال کے والدین کو 2011 میں لاہور میں قتل کیا گیا جس کے الزام میں ان کے سوتیلے بھائی نوید اقبال سمیت دیگر 2 ملزمان کو بھی گرفتار کیا گیا تھا۔لاہور کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے 2016 ء میں قتل کے مقدمے میں نامزد تینوں ملزمان کو سزائے موت کا حکم دیا تھا۔بعد ازاں ملزمان نے ہائیکورٹ میں اپیل دائر کی جس کا فیصلہ سناتے ہوئے شواہد کو ناکافی قرار دیا گیا اور تمام ملزمان کو بری کردیا گیا۔