سی پیک اتھارٹی کے قیام کو مسترد کرتے ہیں

110

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سیکریٹری جنرل احسن اقبال نے سی پیک اتھارٹی کے آرڈیننس کو خلاف قانون قرار د یتے ہوئے کہا ہے کہ سی پیک اتھارٹی کا قیام غیرقانونی اور پارلیمانی  کمیٹی کی سفارشات کے منافی ہے۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) کےرہنمااحسن اقبال نے سی پیک اتھارٹی کےقیام کو مسترد کرتے ہوئے کہ اتھارٹی کا قیام قانون کے خلاف ہے،انہوں نے کہا کہ سی پیک اتھارٹی کا قیام غیرقانونی اور پارلیمانی  کمیٹی کی سفارشات کے منافی ہے،قومی اسمبلی کی سی پیک کمیٹی نے متفقہ طورپر سی پیک اتھارٹی کی مخالفت کی تھی ،سی پیک اتھارٹی کو آرڈیننس کے ذریعے نافذ کر کے اس قومی منصوبے کو دانستہ متنازعہ بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔

احسن اقبال نے کہا کہ سی پیک اتھارٹی کے قیام کی پارلیمنٹ میں شدید مخالفت کریں گے،سی پیک اتھارٹی کے قیام کا مقصدسویلین اداروں پہ عدم اعتماد ہے،صدر کو پیغام دیا تھا کہ مجلس قائمہ نے مخالفت کی، پھر بھی انہوں نے آرڈیننس جاری کیا،صدر نے سی پیک کمیٹی اور پارلیمان کو بائی پاس کرکے اقدام کیا۔

 انہوں نے کہا صدرکو سیکریٹری کے ذریعے پیغام دیا تھا کہ یہ غیرقانونی عمل ہے اس پر دستخط نہ کریں،سیکریٹری نے مجھے بتایا تھا کہ صدر ڈاکٹر عارف علوی کو پیغام دے دیا ہے، وہ کل آپ سے رابطہ کریں گے ،صدر نے رابطے کے بجائے سی پیک اتھارٹی آرڈیننس جاری کردیا جو افسوسناک ہے۔

رہنما مسلم لیگ ن نے کہا کہ ساڑھے اٹھائیس ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کسی اتھارٹی کے ذریعے نہیں آئی تھی ،سی پیک چلانے کے لئے اتھارٹی کی نہیں وژن اور فنڈز کی ضرورت ہے، لیکن موجودہ حکومت کے پاس دونوں نہیں ،اتھارٹی کے قیام سے وزارتوں اور محکموں کے اشتراک عمل میں نئے مسائل اور پیچیدگیاں پیدا ہوں گی ۔

انہوں نے کہا سی پیک منصوبہ جات میں بیوروکریٹک رکاوٹیں اور بندشیں پیدا ہوں گی ،قومی اسمبلی کی سی پیک کمیٹی کی تجویز تھی کہ اتھارٹی کا معاملہ پارلیمان میں زیربحث لایا جائے ،سی پیک کمیٹی کی تجویز تھی کہ پارلیمان میں قانون سازی سے یہ اقدام کیاجائے ،پارلیمان کو مستقل تالا ہے، کیونکہ آئی ایم ایف کی شرائط سے لے کر سی پیک تک سب چھپانا ہے۔