اپوزیشن کی رہبرکمیٹی کا حکومت کو مزید وقت دینے سے انکار،نئے انتخابات کا مطالبہ

132

اسلام آباد:اپوزیشن کی رہبر کمیٹی نے وزیراعظم کے استعفے، حکومت کو گھر بھیجنے، نئے انتخابات کروانے کا مطالبہ کردیا۔

تفصیلات کے مطابق اپوزیشن کی رہبر کمیٹی کا اجلاس کنونیئر اکرم خان درانی کی زیر صدارت اسلام آباد میں ہوا، جس میں احسن اقبال، نیئر حسین بخاری، فرحت اللہ بابر، طاہر بزنجو اور میاں افتخار احمد سمیت دیگر نے شرکت کی۔ اجلاس میں آزادی مارچ کیلئے اپوزیشن کی حکمت عملی طے کی گئی۔

رہبر کمیٹی کاچار نکات پر بھی اتفاق ہوگیا۔پہلا نکتہ وزیر اعظم عمران خان استعفیٰ دیں، دوسرا نکتہ حکومت گھر جائے، تیسرا نکتہ نئے انتخابات کرائے جائیں جس میں فوج کا عمل دخل نہ ہو اور چوتھا نکتہ آئین میں موجود اسلامی شقوں کا مکمل دفاع کیا جائے گا۔

اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے رہبر کمیٹی کےکنونیئر اکرم خان درانی نے کہا کہ اپوزیشن جماعتوں کی قیادت کے اے پی سی کے کافی اجلاس ہوئے، اپوزیشن جماعتوں نے حکومت کے خلاف تحریک پر کافی مشاورت کی اور آخری سربراہی اجلاس میں حکومت کو مزید وقت نہ دینے پر اتفاق ہوا تھا ،طے ہوا تھا کہ حکومت مزید رہی تو بہت تباہی ہوگی،جتنی دیر یہ حکومت رہے گی اتنا معیشت کو نقصان ہوگا ، آج بھی اجلاس میں یہی فیصلہ ہوا کہ حکومت کو گرانا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملک کا کوئی ایسا طبقہ نہیں جو خوشحال ہو،جس طرح کشمیر کو بیچ دیا ہے اسی طرح منافع بخش اداروں کو بیچنے کی منصوبہ بندی ہو رہی ہے ،حکومت نے منافع بخش نیشنل بنک کو بھی بیچنے کا فیصلہ کر لیا ہے،ہمیں خوف ہے کہ یہ حکومت پاکستان کو نہ بیچ دے۔

رہبر کمیٹی کے کنونیئر اکرم خان درانی نےوزیراعظم سے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم یہ چاہتے ہیں وزیر اعظم عمران خان فوری مستعفی ہوں، فوج کی مداخلت کے بغیر نئے طریقے سے الیکشن کرائے جائیں،مولانا اتنے پرانے سیاستدان ہے کہ مذہبی کارڈ استعمال کرنے کی ضرورت نہیں۔

لیگی رہنما احسن اقبال نے کہا کہ حکومت نے سی پیک اتھارٹی کا آرڈیننس جاری کیا ہے،حکومت پارلیمنٹ کو مسلسل نظرانداز کرکے بیک ڈور قانون سازی کر رہی ہے ،سی پیک پارلیمانی کمیٹی میں یہ مسودہ پیش کیا گیا تھا جسے کمیٹی نے مسترد کردیا تھا ، اسے پارلیمان میں لانے کی بجائے آرڈیننس کے ذریعے متنازعہ بنانے کی کوشش کی ۔ سی پیک جیسے منصوبے کو متنازع کرنے کی کوشش کی ہے۔

پیپلز پارٹی کے فرحت اللہ بابر نے کہا کہ اس وقت سب آپ کے سامنے بیٹھے ہیں کہ ہم سب متحد ہیں اور رہیں گے، سی پیک اور کے پی کے آرڈیننس کے پیچھے سوچ یہ ہے کہ خیبرپختونخوا اور سی پیک کو فوج کے حوالے کردیا گیا، اس سے پہلے بھی فاٹا میں ایک ناکام کوشش کی گئی تھی جسے پارلیمان نے ناکام بنایا۔

اے این پی کے میاں افتخار احمد نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں ایک آرڈیننس جاری کیا گیا ہے کہ کسی کو کہیں بھی گرفتار کیا جاسکتا ہے، خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی حکومت نے مارشل لا لگادیا گیا ہے جس کی مذمت کرتے ہیں،27تاریخ آپ سب ہمیں اکٹھا دیکھیں گے، ہم متحد ہیں۔