کوٹری،لاکھڑا کول مائنز فیلڈ کے محنت کش بے زروزگار ہونے کا خدشہ

150

 

کوٹری (نمائندہ جسارت) لاکھڑا کول مائنز فیلڈ میں ہزاروں محنت کش بے روزگار ہونے کا خدشہ۔ ایکسل لوڈ آرڈیننس پر عملدرآمد سے ٹرانسپورٹر اور مائن آنرز پریشان، آل پاکستان مائن اینڈ منرلز ایسوسی ایشن کا مشترکہ ہنگامی اجلاس۔ مائن آنرز، بھٹہ مالکان اور ٹرانسپورٹر نے ملک گیر احتجاج کا عندیہ دے دیا۔ جامشورو کے علاقہ لاکھڑا کول مائنز فیلڈ میں ہزاروں محنت کش بیروزگار ہونے کا خدشہ لاحق ہوگیا ہے۔ متعلقہ اداروں کی جانب سے جامشورو میں ایکسل لوڈ مینجمنٹ آرڈینینس 2000 پر مکمل عملدرآمد کرانے پر مائن آنر اور ٹرانسپورٹ حضرات سخت پریشانی کا شکار ہیں۔ اس صورتحال پر آل پاکستان مائن اینڈ منرلز ایسوسی ایشن نے سندھ بلوچستان اور پنجاب کے بھٹوں کے مالکان، مائن آنراور ٹرانسپورٹ رہنمائوں کا مشترکہ ہنگامی اجلاس بلوالیا جس میں آ ل پا کستان مائن اینڈ منلز ایسوسی ایشن کے مرکزی صدر میر بہروز بلوچ، لاکھڑا کول فیلڈ مینجمنٹ سندھ کے چیئرمین عبدالصمد رئیسانی، آل پاکستان مائن اینڈ منرلزا یسوسی ایشن کے سینئر نائب صدر شکیل احمد خان، نائب صدر پیر بخش راجڑ، نائب صدر حاجی ظریف موسیٰ خیل سمیت دیگر رہنمائوں نے شرکت کی۔ اجلاس میں حکومتی پالسیوں اور ایسکل لوڈ آرڈیننس پر عملدرآمد بھٹوں کی بندش اور امن وامان کی صورتحال زیر بحث لائے گئے۔ آل پاکستان مائن اینڈ منرل ایسوسی ایشن کے رہنمائوں میر بہروز بلوچ، عبدالصمد رئیسانی اور شکیل احمد خان نے صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ حکومتی اقدامات سے سندھ کا بلیک گولڈ کا بڑا ذخیرہ اور قدرتی معدنیات سے وابستہ ہزاروں افراد کا کاروبار دائو پر لگ گیا ہے اور حکومتی اقدامات سے محنت کشوں اور قدرتی معدنیات سے وابستہ کاروباری حضرات میں سخت بے چینی پائی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ صدراتی آرڈینینس 2000 ایکسل لوڈ پر اٹھارہ سال بعد عملدرآمد کرانا معنی خیز اور ناممکن ہے کیونکہ مذکورہ آرڈیننس انٹرنیشنل قوانین کو مدنظر رکھتے ہوئے نافذ کیا گیا تھا، مگر انٹرنیشنل طرز کی سہولیات کسی سیکٹر میں نہیں پائی جاتی، مگر افسوس زمینی حقائق کو مد ظر رکھتے ہوئے جس آرڈیننس پر برسوں سے عملدرآمد نہیں ہوا اس پر اچانک عملدرآمد کرانا سراسر زیادتی ہے، جس کیخلاف آواز بلند کرتے ہوئے حکومتی نمائندوں مختلف محکموں کے سربراہان سے ملاقات میں اپنے تحفظات سے آگاہ بھی کیا ہے اور عدالت سے رجوع بھی کیا جارہا ہے۔ رہنمائوں نے صحافیوں کو بتایا کہ ایکسل لوڈ آرڈیننس پر عملدرآمد کرانے سے ایک طرف ٹرانسپورٹ حضرات کو نقصان کا سامنا ہے، تو دوسری طرف ملکی معدنیات اور دیگر پیداوار کی ترسیل کے نرخ دوگنے ہونے سے ملکی معیشت پر برا اثر پڑنے کے ساتھ ہزاروں محنت کشوں کا روزگار متاثر ہونے کا خدشہ لاحق ہے۔ انہوں نے وزیر اعظم پاکستان عمران خان اور چیف جسٹس سے دردمندانہ اپیل کی ہے کہ وہ فوری نوٹس لے کر آرڈیننس پر عملدرآمد کو رکوانے میں اپنا کردار ادا کریں تاکہ قدرتی معدنیات اور صنعتی شعبوں سے وابستہ ہزاروں محنت کشوں میں پائی جانے والی بے چینی ختم ہوسکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت پنجاب نے اسموگ کا جواز بنا کر تین ماہ کے لیے بھٹوں کی بندش کے لیے نوٹسز جاری کیے ہیں جبکہ اسموگ کی اصل وجہ فیکٹریوں میں ربڑ اور ٹائر نذر آتش کرنے ڈیزل گاڑیوں کے بڑھتے استعمال اور چاول کی فصل کے بعد آگ لگانے سے زیادہ اثرات مرتب ہوتے ہیں مگر بندش صرف بھٹوں کی جاتی ہے اور لاکھوں محنت کشوں کا معاشی قتل عام کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ لاکھڑا پاور ہائوس بند ہونے سے ملکی وسائل اور قدرتی انرجی سے محروم ہیں، جسے فوری چلا کر کوئلے کی پیداوار بڑھانے اور انرجی قلت کو پورا کیا جاسکتا ہے۔