ملک میں احتساب نہیں فراڈ ہورہا ہے،سینیٹر مشتاق خان

52

پشاور (وقائع نگار خصوصی) امیر جماعت اسلامی خیبر پختونخوا سینیٹر مشتاق احمد خان نے کہا ہے کہ ملک میں احتساب نہیں فراڈ ہورہا ہے، کشمیر پر وزیراعظم کی تقریر لفاظی کے سوا کچھ نہیں، کشمیر کے معاملے پر واضح روڈ میپ کا اعلان کیا جائے،کشمیر پر ٹرمپ کی ثالثی کسی صورت قبول نہیں،معیشت حالت نزع میں ہے ،احتساب کو بطور سیاسی انتقام مخالفین کے خلاف استعمال کیا جارہا ہے،پروٹوکول کلچر کے خاتمے کے دعویداروں نے ہیلی کاپٹرکورکشے کی طرح استعمال کیا،2018کے الیکشن میں دیر میں جماعت اسلامی کے مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالا گیا قاسم سوری کے حلقے میں پچاس ہزارجعلی ووٹوں کا نکلنا دھاندلی کا کھلا ثبوت ہے کہ کس طرح دن دھاڑے الیکشن کو ہائی جیک کیا گیا،جے آئی یوتھ کی قوت سے ملک کو امریکی کاسہ لیسوں،دھوکہ بازوں اور فراڈیوں سے آزاد کرائیں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے تیمر گرہ میں جے آئی یوتھ کے ایک بڑے گرینڈ یوتھ کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ کنونشن سے سابقہ صوبائی وزیر بلدیات عنایت اللہ خان، جماعت اسلامی کے ضلعی امیر اعزاز الملک افکاری، جے آئی یوتھ کے صوبائی صدر صدیق الرحمن پراچہ، ضلعی صدر فاروق حمید اللہ، جنرل سیکرٹری مشتاق احمد اور تحصیل بلامبٹ کے صدر معراج الحق نے بھی خطاب کیا۔ یوتھ کنونشن میں ہزاروں کی تعداد میں نوجوانوں نے شرکت کی۔ اس موقع پر سابق ایم این اے صاحبزادہ یعقوب، سابق صوبائی وزیر خزانہ مظفر سید ایڈووکیٹ، سابقہ تحصیل ناظمین عمران الدین ایڈووکیٹ، ریاض محمد ایڈووکیٹ، ارشد زمان، فضل ودود، حفیظ اللہ خاکسار ودیگر بھی موجود تھے۔ سینیٹر مشتاق احمد خان نے کہا کہ ٹرمپ مودی کا دوسرا چہرہ ہے۔ وزیر اعظم کی تقریر لفاظی اور لالی پاپ کے سوا کچھ نہیں، قوم کشمیر پر عملی اقدامات کی منتظر ہے۔ وزیراعظم لائن آف کنٹرول کو کھولنے کا اعلان کرے۔ بصورت دیگر جماعت اسلامی قوم کے لائن آف کنٹرول کی طرف مارچ کرنے کا اعلان کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ حکمرانوں کی غلطی اور نااہلی پر مبنی پالیسیوں کی وجہ سے معیشت آئی سی یو میں ہے۔ آئی ایم ایف مارکہ غلامانہ پالیسی کے نتیجے میں مہنگائی اور بے روزگاری نے معیشت کا کباڑا کردیا ہے، جبکہ حکمران معیشت کی درستگی کے لیے اپنے پرانے بیانات سے یوٹرنز لے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہر ہفتے شہریوں پر نت نئے ٹیکس کس خوشی میں لگائے جارہے ہیں، ساڑھے تین ہزار مالیاتی خسارہ تاریخ کا بدترین باب اور تبدیلی کے دعویداروں کے منہ پر طمانچہ کی مانند ہے۔ معیشت کے گروتھ ریٹ میں پاکستان افغانستان سے بھی نیچے چلا گیا ہے۔ حکومت کی کارکردگی کا جائزہ لینے والے تمام اداروں کی رپورٹس نے حکومتی کارکردگی اور گڈگورننس کا پول بیچ چوراہے میں پھوڑ دیا ہے اور مہنگائی کے سونامی نے عوامی امیدوں کو کچل کر رکھ دیا ہے جبکہ حکمران ہوش کے ناخن لینے کے بجائے اپنے اللوں تللوں میں لگے ہوئے ہیں۔ سائیکل پر وزیراعظم ہائوس جانے کے دعویدار اب ہیلی کاپٹروں کے مزے اڑا رہے ہیں اور عوام کو قرضوں کے جال میں پھنسا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں احتساب کے نام پر فراڈ ہورہا ہے اور عوام کی آنکھوں میں دھول جھونک کر احتساب کو سیاسی مخالفین کیخلاف استعمال کیا جارہا ہے جبکہ میگا کرپشن سکینڈل بی آر ٹی نیب اور دیگر اداروں کے ریڈار پر نظر نہیں آرہا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ کابینہ میں موجود کرپٹ ٹولے کا بھی احتساب یقینی بنایا جائے جبکہ پاناما میں شامل دیگر 436 افراد کو بھی قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔