اساتذہ کا سایہ دار شجر طلبہ کو علمی چھائوں سے سرفراز کرتا ہے

59

سکھر(نمائندہ جسارت)معروف ماہر تعلیم پروفیسر رضوان اللہ خان نے کہا ہے کہ اساتذہ کا سایہ دار شجر ہمیشہ طلبا وطالبات کو علمی چھائوں سے سرفراز کرتا ہے ہر کامیابی کامرانی ترقی عروج اور آگے بڑھنے میں اساتذہ کی محنت،کوششوں، دعائوں اور رہنمائیوں کا اثر ہوتا ہے وہ قومیں جلد ترقیاں کرتی ہیں جو اساتذہ کو احترام دیتی ہیں ،عزت کرتی ہیں ۔کوئی علم ،تعلیم،فن ،ہنر اور مہارت استاد کے بغیر حاصل نہیں کی جاسکتی ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے میلاد مصطفی کمیٹی کے زیر انتظام قائم میلاد نعت انسٹیٹیوٹ کے زیر اہتمام’’ٹیچرز ڈے‘‘ کے موقع پر منعقدہ ’’ سلام ٹیچر سمپوزیم‘‘ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ میلاد ونعت انسٹیٹیوٹ کے ڈائریکٹر غیا ث الدین قادری نے اپنے خطاب میں کہا کہ تعلیم دینے کے فن کو سلام ہے ٹیچر اپنا علم اور تجربہ طالبعلموں کو دے کر انہیں معاشرے کا کارآمد فرد بناتے ہیں معاشرہ جس ڈگر پر چل رہا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اساتذہ کی نصیحت اور باتوں کو فراموش کیا جارہا ہے استاد کی عظمت سے کوئی انکار نہیں کرسکتا،طالبعلموں کیلیے ہر دن ٹیچرڈے ہے ،استاد اپنے آرام اور آسائشات زندگی کو چھوڑ کر علم کی روشنی پھیلانے میں مصروف عمل رہتا ہے ۔سکھر ایجوکیشنل نیٹ ورک فائونڈیشن کے صدر ڈاکٹر انیس الرحمن نے کہا کہ انسان کو انسانیت کا سبق استاد سے ملتا ہے ۔نجی تعلیمی ادارے کے ایڈمنسٹریٹر آغا تابش خان نے کہا کہ تعلیم کو مشعل راہ بنانے والے استاد فروغ علم کیلیے کوشاں رہ کر عظیم خدمات انجام دے رہے ہیں ۔نوجوان طالبعلم انجینئر اظہر محمود صدیقی نے کہا کہ حصول تعلیم کیلیے پہلے بہتر مشقت کرنا ہوتی تھی اب تعلیم حاصل کرنے کیلیے گھروں کے قریب درسگاہیں ،اسکولز،کالجز ،مدارس،یونیورسٹیز اور نجی تعلیمی ادارے بڑی تعداد میں موجود ہیں ۔معروف قانون دان محسن سجاد ایڈووکیٹ نے کہا کہ تعلیم کیساتھ ساتھ کردارسازی ،مہذب بننا،انسانیت کا احساس کرنا ،حقوق اللہ اور حقوق العباد کا خیال یہ سب ہمیں اساتذہ کی مرہون منت ملا ہے ،سمپوزیم میں اساتذہ کرام کو شانداز الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا گیا اور بچھڑ جانے والے ٹیچرز کو خراج عقیدت پیش کرکے ان کی مغفرت کیلیے دعا کی گئی۔