عراق: حکومت مخالفت مظاہروں میں شدت‘ ہلاکتیں 105ہوگئیں

218

بغداد (مانیٹرنگ ڈیسک) عراق میں معاشی بدحالی، بدعنوانی اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف جاری مظاہروں میں شدت آگئی اور 6 روز کے دوران ہلاکتوں کی تعداد 105 تک جاپہنچی ہے۔یکم اکتوبر سے شروع ہونے والے مظاہروں میں سیکورٹی فورسز کی جانب سے طاقت کے وحشیانہ استعمال کے بعد سے شدت آتی جارہی ہے۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق عراق کے مختلف شہروں میں ہونے والے مظاہروں میں شریک افراد کی اکثریت نوجوانوں کی ہے جو بیروزگاری، بدعنوانی اور پانی اور بجلی جیسی بنیادی سہولیات کی عدم فراہمی کے خلاف احتجاج کررہے ہیں۔عراق میں مظاہروں کے بعد مختلف شہروں میں فوج بھی تعینات کی گئی ہے جبکہ ناصریہ شہر فوج کے کنٹرول میں ہے، حکومت کی جانب سے احتجاج پر قابو پانے کے لیے مختلف شہروں میں کرفیو کا بھی نفاذ کیا گیا ہے۔دارالحکومت بغداد سمیت مختلف شہروں میںگزشتہ روز بھی مظاہرین اور سیکورٹی فورسز کے درمیان جھڑپیں ہوئیں جس میں متعدد افراد جاں بحق اور زخمی ہوئے۔6 روز سے جاری پرتشدد مظاہروں میں سیکورٹی فورسز کی جانب سے طاقت کے استعمال کے نتیجے میں اب تک 105 افراد ہلاک اور ہزاروں زخمی ہوچکے ہیں جبکہ سیکڑوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔عراقی وزارت داخلہ نے کہا ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں 8سیکورٹی اہلکار بھی شامل ہیں جبکہ مظاہروں میں زخمی ہونے والے افراد کی تعداد 6ہزار سے زاید ہے۔دوسری جانب ملک گیر احتجاج میں کمی نہ آنے کے بعد عراقی کابینہ نے فوری طور پر درجن سے زاید اصلاحات کا اعلان کیا۔عراقی کابینہ کی جانب سے زمینوں کی تقسیم ، ضرورت مندوں کے وظائف میں اضافہ اور بیروزگار نوجوانوں کے لیے خصوصی اعلانات کیے گئے ہیں۔ اس سے قبل عراقی وزیراعظم عادل عبدالمہدی کا ٹی وی پر خطاب میں کہنا تھا کہ وہ عوام کی مایوسی کو سمجھتے ہیں لیکن ان کے پاس ان مسائل کے حل کے لیے کوئی جادو نہیں ہے، اصلاحات کے ذریعے عوامی مسائل حل کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ یاد رہے کہ عراقی وزیراعظم عادل عبدالمہدی نے گزشتہ سال ہی اقتدار سنبھالا ہے، اس سے قبل وہ نائب صدر، وزیرتیل اور وزیرخزانہ رہے ہیں۔ادھر عراق کی صورتحال خراب ہونے کے بعد بحرین نے اپنے شہریوں کو فوری عراق چھوڑنے کا حکم دیا ہے جبکہ کویت نے بھی ٹریول ایڈوائزری جاری کی ہے جس میں شہریوں کو عراق کے سفر میں محتاط رہنے کا کہا گیا ہے۔