سی پیک منصوبوں کے ثمرات جلد نظر سامنے آئیں گے، خسرو بختیار

145

اسلام آباد (اے پی پی+ مانیٹرنگ ڈیسک) وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی خسرو بختیار نے کہا ہے سی پیک منصوبوں کے ثمرات جلد معیشت پر نظر آئیں گے، ایک سال بعد جی ڈی پی گروتھ دیکھیں گے، سی پیک کے تمام پروجیکٹ مقررہ وقت پر پورے ہوں گے۔پریس کانفرنس کرتے ہوئے خسرو بختیار نے کہا چین کے دورے پر بہت سے منصوبے لے کر جا رہے ہیں، کے پی میں 7 پائلٹ پروجیکٹ شروع کر رہے ہیں، پی ٹی آئی حکومت نمائش پر کم، کام پر زیادہ یقین رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا ساڑھے 4 ہزار میگا واٹ بجلی کے منصوبے چل رہے ہیں، 19 کمپنیاں انویسٹمنٹ کرنے کے لیے تیار بیٹھی ہیں، 2016ء گوادر ماسٹر پلان کو بلوچستان حکومت سے مل کر فائنل کر لیا،کوسٹل ہائی وے منصوبے کو بھی حتمی شکل دے دی گئی ہے، ایم ایل ون منصوبہ 5 سال سے التوا کا شکار تھا، اس پر بھی کام جاری ہے۔ خسرو بختیار نے کہا سی پیک دو ممالک کے درمیان ایک اشتراک ہے، آپ ایک سال بعد جی ڈی پی گروتھ بڑھتا دیکھیں گے، جی ڈی پی گروتھ اتنی بڑھے گی کہ خسارے کا نہیں سننا پڑے گا، 2022 میں جی ڈی پی 6.5 فی صد تک پہنچ جائے گی۔انھوں نے کہا سی پیک اتھارٹی کا قیام جلد عمل میں لایا جائے گا، نومبر میں سی پیک کی جے سی سی ہوگی، سی پیک کے موجودہ منصوبوں پر کام سست ہونے کی بات غلط ہے۔انہوں نے کہا ایل این جی ٹرمینل کی تعمیر سے ایک ارب مکعب فٹ گیس دستیاب ہو گی، ایم ایل ون پر دورہ چین کے دوران چین کے ساتھ باضابطہ بات چیت ہوگی، دورہ چین کے دوران 200 ملین ڈالر کے زرعی منصوبے تجویز کر رہے ہیں۔ وفاقی وزیر نے کہا دورہ چین کے دوران 7 ہزار میگا واٹ بنجی ڈیم کا منصوبہ بھی زیر بحث آئے گا، اسٹیل مل کی صلاحیت 3 ملین ٹن تک بڑھائی جائے تو زر مبادلہ کی بچت ہوگی۔