تحفظ کا احساس میرا حجاب

348

حجاب عورت کےلیے ڈھال کی مانند ہے
مذاکرے کی روداد

صائمہ عبدالواحد

حجاب امت مسلمہ کا شعار جو مسلم خواتین کو فخر عطا کرتا ہے۔جب عورت اپنا پردہ اتار پھینکتی ہے تو اس سپاہی کی مانند ہو جاتی ہے جو میدان جنگ میں اپنی زرہ اتار پھینکے۔۔۔
’’تحفظ کا احساس ہے میرا حجاب‘‘ کے عنوان سے جماعت اسلامی حلقہ خواتین ضلع ناظم آباد وسطی شعبہ نشرواشاعت کے تحت ایک پروگرام ترتیب دیا گیا۔
ستمبر کی ایک گرم شام تھی لیکن لوگوں کی آمد دیدنی تھی حاضری بھی بھرپور تھی ہر عمر کی خواتین نے اس پروگرام میں شرکت کرکے حجاب سے مضبوط تعلق کا ثبوت دیا۔ لوگوں کی آمد کے ساتھ ہی پروگرام کا آغاز کردیا گیا۔پروگرام کی ابتدا تلاوت قرآن پاک سے ہوئی۔ ام ہانی صاحبہ نے سورہ نور سے آیات حجاب کی تلاوت کی۔ تلاوت قرآن پاک کے بعد انہی آیات کا ترجمہ پیش کیا۔حمد باری تعالیٰ عبیرہ عامر اور نعت رسول مقبول یسریٰ عامر نے پیش کی۔حجاب کے عنوان سے تحریریں اور شاعری بھی شامل پروگرام تھیں۔ شہلا خضر نے اپنی تحریر ’’حجاب میں تحفظ ہے‘‘ حاضرین کے سامنے پڑھی۔’’ہم بیٹیاں ہم بیٹیاں ‘‘کے عنوان سے حجاب پر ترانہ تحریم صاحبہ نے پیش کیا ۔ پروگرام کی انائونسر نائلہ صدیقی وقت کو بڑی خوبصورتی سے سنبھالتے ہوئے پروگرام کو آگے بڑھاتی رہیں۔
اگلا سیشن مذاکرے کا تھا مذاکرے کوکنڈکٹ کروانے کے لیےعثمان پبلک اسکول کی پرنسپل ہاجرہ منصورکو بلایا گیا۔ مذاکرے کے شرکا میں مہ جبیں اختر سائکاٹرسٹ اینڈ ڈپٹی مینیجنگ ڈائریکٹر کراچی نفسیاتی ہسپتال، ہومیو پیتھک ڈاکٹر ہما نصیر کنسلٹنٹ اینڈ جنرل فزیشن، نغمانہ حفیظ ٹیچر ہمدرد پبلک اسکول، شیما صدیقی سینئر ممبر سنسر بورڈ جیو ٹی وی اور مومنہ عقیل طالبہ کراچی یونیورسٹی شامل تھیں۔
ہاجرہ منصور نے تمام مہمانوں کو مذاکرہ میں خوش آمدید کہا۔ جہاں تمام مہمان تشریف فرما تھے وہیں دیواروں پر مختلف بینر اور پوسٹ کارڈ آویزاں تھے۔
حجاب میں لپٹی عورت جیسے سیپ میں موتی۔۔۔۔بادل میں چاند۔۔۔۔پھل میں بیج۔۔۔زمین میں کونپل۔۔۔
مذاکرہ کا پہلا سوال ہما نصیر صاحبہ سے کیاگیا کہ حجاب عورت کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہے؟ اسکے جواب میں انہوںنے اپنا پرسنل تجربہ بیان کیا کہ وہ ڈائو میڈیکل میں مردوں کے ساتھ کام کرتی رہیں لیکن حجاب کے دائرے میں رہ کر۔ انہوں نے مزید کہا کہ مرد اور عورت کے درمیان بات چیت حیا کے دائرے میں ہونی چاہیے چاہے مرد مریض ہی کیوں نہ ہو۔ ا س کےلیے ضروری ہے کہ ہمارے اپنے اندرحیا موجود ہو۔ انہوں نے مزید بتایا کہ عورت اپنے دائرے میں رہ کرہر فیلڈ میں ترقی کرسکتی ہے ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ وہ جماعت اسلامی کی شکرگزار ہیں کہ وہ برائی کے خلاف جہاد کررہے ہیں۔
کیا واقعی پردہ و حجاب عورت کی ضرورت ہے؟اس سوال کے جواب میں مہ جبیں اختر نے کہا کہ میری پیدائش و پرورش امریکا میں ہوئی۔میں نے وقت کے ساتھ ساتھ حجاب کو اپنایا۔ امریکہ میں کم عمر بچیوں کو مخلوط تعلیم کے باعث ہراساں کیاجاتا ہے۔جب لڑکے اور لڑکیوں کی کلاسز الگ کی گئیں تو اسکے رزلٹ اچھے آئے۔ جب کالج میں لڑکے لڑکیوں کا گروپ بنا تو والد صاحب نے سختی سے کہا کہ تین چار فٹ دور رہ کر بات کرنا، غیر ضروری گفتگو نہ کرنا اسی لیے میں محفوظ رہی۔حجاب سے مجھے پروٹیکشن ملی۔دراصل حیا وحجاب ہی وہ چابی ہے جسکے ذریعے گھروں کو ٹوٹنے سے بچایا جا سکتا ہے۔ حجاب کے ذریعے عورت دوسرے کے گھروں کا تحفظ کرتی ہے۔ اسی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے ہاجرہ منصور نے کہا مہ جبیں صاحبہ نے بہت اچھے آئیڈیاز دیے ہیں کہ جس سے محسوس ہوا حجاب معاشرے کی بقا کی ضرورت ہے معاشرے کا عدم استحکام، گھرٹوٹ ر ہے ہیں اس کی اصل وجہ یہی ہے کہ عورت بے پردہ ہوتی ہے۔
اگلا سوال تھا کہ دو گز کا ٹکڑا کیا واقعی میرے لئے تحفظ کا ضامن ہے۔۔عزت و وقار کا باعث ہے؟اسکے جواب میں نعمانہ حفیظ صاحبہ نے جواب دیا کہ چھوٹی بچیاں ماؤں اور ٹیچرز کو کاپی کرتی ہیں۔بچوں کی نفسیات پر ٹیچر کے فیشن اور لباس کا کافی اثر ہوتا ہے۔جو مائیں ورکنگ وومن ہوتی ہیں وہ بچوں کو مناسب وقت نہیں دے پاتیں اور ساتھ سوشل میڈیا کی موجودگی میں ٹیچر کی ذمہ داری دہری ہوجاتی ہے۔ نئی نسل کو حجاب کیلئے زبردستی نہ کریں سمجھائیں دل میں حجاب کی اہمیت اجاگر کرنے کی کوشش کریں۔اگر دل سے قبول کرینگی تو اچھے سے نبھا کر سکیں گی۔
اگلا سوال کیا واقعی تحفظ کا احساس ہے میرا حجاب ؟اسکے جواب میں کراچی یونیورسٹی کی طالبہ مومنہ عقیل نے کہا جب میں یونیورسٹی جانے کیلئے بس میں سوار ہوتی ہوں توحالانکہ میں نے عبایا پہنا ہوا ہوتا ہے ۔مگر پھر بھی آدمی مجھے گھور تے ہیں جیسے بغیر عبایا والی لڑکیوں کو گھورتے تھے حالانکہ میں پہلے بھی اسکول و کالج جاتی رہی ہوں لیکن اس کا احساس پہلی بار مجھے یونیورسٹی جاتے ہو ئے ہوا۔ لڑکیوں کے ساتھ ساتھ لڑکوں کو حیا سکھانے کی ضرورت ہے۔اسی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے ڈاکٹر ہمانصیر نے کہا کہ ماؤں کو چاہیے کہ وہ اپنے بیٹوں کو بھی حیا سکھائیں۔ نغمانہ حفیظ نے کہا کہ بیٹوں کے حوالے سے اصل ذمہ داری باپ کی ہے اور ماؤں کو چاہیے کہ اپنے بیٹوں کی غلطیوں پر پردہ نہ ڈالیں اور نہ ہی باپ سے کوئی بات چھپائیں۔بات کو سمیٹتے ہوئے ہاجرہ منصور نے کہا اسلام میں مرد کو قوام کہا گیا ہے اور مرد ہی اپنے اہل وعیال کی حیا کا محافظ ہے۔مومنہ عقیل نے کہا کہ مائیں اپنی بیٹیوں کو حجاب سے محبت کرنا سکھائیں اور اپنے بیٹوں کو باحجاب عورت کی عزت کرنا سکھائیں۔
مذاکرہ ابھی جاری تھا کہ درمیان میں نظم ’’قرآن کا پیغام ‘‘ ایمان احمد نے پیش کی۔ اسکے بعد شبانہ ضیا نے اپنی نظم ’’زمانے کی نگاہوں سے دیتا ہے تحفظ۔۔۔۔رسوا مجھے حجاب ہونے نہیں دیتا‘‘ پیش کی۔
پروگرام کو آگے بڑھاتے ہوئے انائونسر نائلہ صدیقی نے عالمی یوم حجاب کا پس منظر پیش کیا۔مروہ الشربینی کا واقعہ حاضرین کے سامنے رکھا کہ کسطرح اس غیرمسلم مذہبی جنونی نے بھری عدالت میں مروہ الشربینی کا قتل کردیا جبکہ عدالت نے مروہ الشربینی کے حق میں فیصلہ دیا تھا۔
مائیک پھر سے ہاجرہ منصور کے ہاتھ میں تھا۔اب کی بار یہ سوال شیما صدیقی صاحبہ سے کیا گیا کہ کیا آپکا حجاب ترقی کی راہ میں رکاوٹ ثابت ہوا؟ اسکے جواب میں شیما صدیقی صاحبہ نے کہا کہ میں کئی برس سے ورکنگ وومن کے طور کام کررہی ہوں۔میں نے جنگ میں کام کیا فی الحال جیو نیوز میں کام کررہی ہوں۔میرا کام فیلڈ پر ہے۔ معاشرے کی سچی کہانیوں پر ویڈیوز بنانا۔ میرے ساتھ اور بھی خواتین کام کرتی ہیں جنہوں نے بہت اعتماد کے ساتھ حجاب کو اپنایا ہوا ہے۔میں نے بھی حجاب کو اپنا کر اپنے اندر اعتماد کا احساس پایا میں نے ہر طرح کا کام کیا لیکن میرا حجاب کہیں بھی میرے کام میں رکاوٹ نہیں بنا۔ میں لوگوں سے کہتی ہوں کہ میں نے اپنے بال کور کئے ہیں دماغ نہیں بلکہ سچ کہوں تو کمفرٹ زون مجھے حجاب ہی سے ملا۔
مذاکرے کے آخر میں ہاجرہ منصور نے تمام مہمانوں کا شکریہ اداکیا ساتھ ہی عشرت زاہد نائب کراچی حریم ادب نے مذاکرے کے تمام شرکا کو تحائف دیئے۔
پروگرام اپنے اختتام پر تھا۔ مجھ ناچیز نے اپنی چھوٹی سی کاوش سامعین کے گوش گزار کی۔
پروین رئیس صاحبہ نے حجاب پر اپنی نظم پڑھی۔
آخر میں نائلہ صدیقی نے ناظمہ ضلع ناظم آباد وسطی مسرت جنید صاحبہ کو دعوت خطاب دیا۔ مسرت جنید صاحبہ نے کہا کہ ہمیں حیا کے کلچر کا عام کرنا ہے اوراس کے لیےپہلی درس گاہ ماں کی گود ہے۔اللہ تعالی نے مردوں اور عورتوں کو اپنی نگاہیں نیچی رکھنے اور اپنی شرمگاہ کی حفاظت کا حکم دیا ہے لیکن اللہ تعالی نے مردوں کے مقابلے میں عورتوں کو ایک حکم زائد دیا ہے کہ وہ نگاہوں اور شرمگاہوں کے ساتھ ساتھ اپنی زینت کو بھی چھپائیں اور اسکے اظہار کیلئے محرم کی فہرست دے دی ہے۔مسرت جنید نے مزید کہا کہ حجاب ڈے کشمیری بہنوں کے نام کیا گیا ہے۔حجاب مسلم عورت کی پہچان ہے اور ایک اعلی اخلاقی معاشرے کی تشکیل کیلئے حجاب مرکزی اہمیت کا حامل ہے۔
آخر میں ناظمہ ضلع ناظم آباد وسطی نے امت کی بیٹیوں اور کشمیری مسلمانوں کیلئے دعا کی کہ اللہ تعالی ہمیں شیطان مردود کے فتنوں سے بچائے۔