بھوک

1057

 

نگہت پروین

وہ صبح سے بھیک مانگ رہی تھی بھوکی بھی تھی مگر ہر دروازے سے اسے ’’معاف کرو‘‘ کے الفاظ سننے کو مل رہے تھے۔ دوپہر ہونے کی وجہ سے دھوپ میں خاصی تپش تھی پسینہ بھی بہت آرہا تھا۔ مہروتھک کر ایک درخت کے نیچے سائے میں بیٹھ گئی مگر بھوک کی شدت نے اسے زیادہ دیر بیٹھنے نہ دیا وہ پھر آنے جانے والے لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلا رہی تھی ۔کوئی کوئی اللہ کا بندہ چند سکے اسکے ہاتھ پر ڈالتے اور غور سے دیکھ کر کوئی جملہ کستے کوئی اللہ کا بندہ پیسوں کے ساتھ ساتھ طنزیہ ہنسی ہنستا اور اس کی گندی نظریں مہرو کی برداشت سے باہر تھیں ان کی ہوس بھری نگاہوں سے مہرو یہ سوچنے لگی کہ معاشرے کے ان ناسوروں کے آگے ہاتھ نہیں پھیلائے گی مگر غربت اور بھوک دو ناسور تو اس کے اندر بھی تھے… مہرو کی عمر 27-26 سال تھی بچپن میں پولیو کے مرض کی وجہ سے ٹانگ گنوا بیٹھی اب گھسٹ گھسٹ کر بھیک مانگتی تھی ماں باپ فوت ہو چکے تھے ایسے میں رشتے دار غریب لوگوں کو کب رشتہ دار مانتے ہیں سب نے ساتھ چھوڑ دیا۔ سانولی رنگت معمولی نقوش کی مہرو بھوک سے تنگ آکر اس راستے پر چل پڑی اسے اندازہ نہ تھا بھیک دینے والے ناپ تول کر اور دیکھ بھال کر دیتے ہیں اس نے ہر دروازہ کھٹکھٹایا کہیں یہ سننے کو ملا کہ کام کیوں نہیں کرتیں ہاتھ تو سلامت ہیں تو بیگم صاحبہ آپ ہی مجھے اپنے ہاں کام پر رکھ لیں ارے ہٹو یہاں سے ذراسی ہمدردی کیا کر دی گھر میں ہی گھسنے لگیں بیگم صاحبہ میں تو آپ سے کام ہی تو مانگ رہی ہوں عزت کی روٹی مل جائے گی پھر بھی آپ دھتکار رہی ہیں… اگلے دروازے پر ایک جوان آدمی نکلا مہرو نے کہا کسی خاتون کو بلا دیں میں کام والی ہوں تو وہ جوان بولا میری بیوی 2 دن کے لیے میکے گئی ہے دو دن رہ کر کام کرو پھر چلی جانا اس کے عزائم کتنے خوفناک تھے اس کی نظر میں مہرو کی مجبوری اس آدمی کے لیے عیش کا ذریعہ تھی مہرو تیزی سے وہاں سے گھسٹ لی۔ پھر اگلی گلی میں ایک دروازہ پر ایک عمر رسیدہ شخص باہر آیا اس کی نظریں بڑی بے باک تھیں وہاں بھی بھیک نہ ملی۔ مہرو حیران تھی بھوکے ہوس کے مارے یہ افراد عورت کو کتنا بے بس اور کھلونا سمجھتے ہیں۔
غرض شام کے 5 بج گئے مہرو کو رونا آنے لگا بھیک بھی نہ ملی زمانے کی رسوائیاں دامن میں بھریں ہمت کی اور ایک دروازہ کھٹکھٹایا ایک مہربان عورت نے دو روٹیوں پر تھوڑا سا سالن رکھ کر دیا اور دروازہ فوراً بند کر لیا۔ روٹیاں سالن دیکھ کر اللہ کا شکر ادا کیا اور بھوک خوب چمک اٹھی اس نے جیسے ہی روٹی کھانی شروع کی کہ ایک کتا بھاگتا ہوا آیا اور روٹیاں دانتوں میں دبا کر یہ جا وہ جا۔
شاید یہ کتا مہرو سے بھی زیادہ بھوکا تھا…