آئیے ہاتھ اٹھائیں ہم بھی

451

 ایک ولی دوراں نے اقوام متحدہ کے سالانہ میلے میں شرکت اور نیویارک کے روز ویلٹ ہوٹل میں عمران خان کے قیام کو خاک بسری اور دربدری سے تعبیر کیا ہے۔ معروف علماء کرام کے باب میں کیا عرض کیاجائے:
بال و پر دوچار دکھلا کر کہا صیاد نے
یہ نشانی رہ گئی ہے اب بجائے عندلیب
تقریر ہوگئی، شاندار استقبال اور کارکنوں کے بھنگڑے بھی ہوگئے، علماء کرام نے تعریفوں کے ڈونگرے بھی برسا دیے۔ ان ڈونگروں پر پھر غالب یاد آرہے ہیں:
رہے نہ جان تو قاتل کو خوں بہا دیجیے
کٹے زبان تو خنجر کو مرحبا کہیے
اب اس دھرتی پر لیڈروں اور عالموں نے پیدا ہونا بند کردیا ہے۔
سب کچھ داغ داغ، مرہم کہاں کہاں رکھیے۔ عوام کی حالت دگر گوں۔ مہنگائی نے کیا حال کیا ہے دیکھیے تو کلیجہ کانپنے لگتا ہے۔ حکومت کی کارکردگی پر عوام افسوس اور انتظار کی تصویر ہیں۔ افسوس ووٹ دینے کا اور انتظار حکومت کے خاتمے کا۔ حکومت سے وابستہ امیدیں افسوس کے ملبے تلے سسک رہی ہیں۔ معیشت کی جانب دیکھیے تو دل ڈوبنے لگتا ہے۔ مہنگائی کی طولانیوں پر نظر ڈالیں تو ہر چہرہ مضطرب، منتشر منتشر۔ کارخانوں، فیکٹریوں، دکانوں، ملازمتوں، اسٹاک مارکیٹوں سے لے کر غریب کی جھونپڑیوں تک سب بے روزگاری کے شکار، ہر جگہ بھونچال، ہر جگہ استیصال، معاملات دگرگوں، پریشان صدائیں، کمزور ہر روز کمزور تر۔ دو وقت کی روکھی سوکھی روٹی تک پہنچنا مشکل بنادیا گیا ہے، لیکن ایک معروف عالم دین فرماتے ہیں ’’عمران خان کے لیے دعا کرو۔ اللہ نے ہمیں ایک بہترین لیڈر دیا ہے۔ درویش، سچا، کھرا اور دین کا درد رکھنے والا حکمران‘‘۔ ہمارے علماء عوام سے کبھی اتنا دور تو نہ تھے۔
حکومتی کارکردگی اور عمل داری، کوئی ہے جو بتائے کس قبرستان میں دفن ہے۔ امن وامان کی صورتحال سے بے نیازی اور لا پروائی، کوئی پیمانہ نہیں ان وسعتوں کا جو احاطہ کرسکے۔ ایک کے بعد ایک نیا سانحہ، نیا واقعہ، اغوا، قتل، ڈکیتی، ہم ان حکمرانوں کو ووٹ دینے کے شدید ترین جرم کے مرتکب ہیں۔ اس جہالت کی سزا تو بھگتنی ہوگی۔ نااہلی اور بد سے بدتر کارکردگی، یہ حکمران اپنے نامہ اعمال کا سامنا کیسے کریں گے۔ لیکن یہ باتیں نہ کسی درجے میں قابل اعتبار ہیں اور نہ وجہ التفات کیونکہ ایک معروف عالم دین فرماتے ہیں ’’عمران خان کے لیے دعا کرو۔ اللہ نے ہمیں ایک بہترین لیڈر دیا ہے۔ درویش، سچا، کھرا اور دین کا درد رکھنے والاحکمران‘‘۔ یہ علماء کرام بڑے بلند مقام لوگ ہیں ان کے سامنے ہم مضحکہ خیزلوگوں کی زندگی کے دکھوں اور مصائب کی کیا حقیقت۔
خارجی اور سفارتی محاذ پر نظر ڈالیے تو منیر نیازی بے طرح یاد آتے ہیں:
منیر اس ملک پر آسیب کا سایہ ہے یا کیا ہے
کہ حرکت تیز تر ہے اور سفر آہستہ آہستہ
وزیراعظم اقوام متحدہ میں مسلمانوں کی تاریخ کی سب سے شاندار تقریر کررہے ہیں، وزیر خارجہ کی کارکردگی بھی دیدنی ہے۔ دورے پہ دورہ، دورے پہ دورہ۔ کابینہ کے دیگر ارکان بھی بیرون ملک آتے جاتے دکھائی دیتے رہتے ہیں لیکن کسی معاملے میں پیش رفت، کوئی اطمینان بخش صورتحال، کوئی مثال، کوئی فورم، کوئی محاذ، جہاں سے ہم کامیاب اور کامران لوٹے ہوں۔ پڑوسیوں سے تعلقات ایسے کہ خاموشی ہی زیبا ہے۔ دوست ممالک چند، وہ بھی ہم سے بیزار، غیر مطمئن، غلط فہمیوں اور غلط اندیشوں میں گھرے ہوئے۔ ایف اے ٹی ایف ہو یا آئی ایم ایف ہم سب کے سامنے مجبور، سب کے سامنے بے بس، سب کا آسان شکار۔ ہر خوف دہشت زدہ کرنے والا۔ خلجان میں مبتلا کرنے والا۔ لیکن وہ جواس صورت حال کے ذمے دار ہیں، وہ جو جھپٹ جھپٹ کر ہم پر حملے کررہے ہیں انہیں کچھ نہ کہیے کیونکہ معروف عالم دین فرماتے ہیں: ’’عمران خان کے لیے دعا کرو۔ اللہ نے ہمیں ایک بہترین لیڈر دیا ہے۔ درویش، سچا، کھرا اور دین کا درد رکھنے والا حکمران‘‘۔ وہ جو علم ومعارف کا منبع ہیں ان کی رائے کے آگے گردن خم ہی رکھیے۔ حد ادب۔ اہل علم کا معاملہ ہے۔
سی پیک کس جہاں میں کھو گیا ہے۔ کیوں حکومتی سطح پر کہیں بھی ہمالیہ سے بلند اور سمندروں سے گہری پاک چین دوستی کا ذکر نہیں۔ کچھ ماہ پہلے کہا جارہا تھا کہ مشکل وقت گزر چکا۔ عوام تک مثبت اثرات پہنچاہی چاہتے ہیں۔ یہ خوشگوار خواب کیوں راستے ہی میں گم ہوگیا ہے۔ عوام کی حالت کیوں دردناک ہوتی جارہی ہے۔ کاروباری حضرات اس مقام پر کھڑے ہیں جہاں ترقی تو ایک طرف معمول کے حالات بھی دستیاب نہیں۔ کاروبارکرنا بدکاری کے مترادف کردیا گیا۔ اتنا کہ کاروباری حضرات کو بڑے ابو سے نکے کی شکایت کے لیے جانا پڑا۔ تعمیر وترقی کیوں دور سے دور تر ہوتی جارہی ہے۔ اس نقصان کی تلافی کی کہیں فکر ہے۔ کیوں ایسامحسوس ہورہا ہے کہ ہمارے سول اور فوجی حکمران غداروں کا ٹولہ ہیں جو اس ملک کو برباد کرنے کے درپے ہیں۔ سماجی، اخلاقی، معاشی، تعلیمی اور دفاعی انحطاط جس کے لیے عشرے درکار تھے کیوں سوا ڈیڑھ سال کی قلیل مدت میں طے کرلیا گیا۔ بھارت کے سامنے ہم اتنے بے بس تو کبھی نہ تھے۔ لیکن ان باتوں کی کوئی اہمیت نہیں۔ آپ یقین کرلیجیے تحریک انصاف کی
حکومت اپنے فرائض پوری تندہی سے ادا کررہی ہے کیو نکہ معروف عالم دین فرماتے ہیں: ’’عمران خان کے لیے دعا کرو۔ اللہ نے ہمیں ایک بہترین لیڈر دیا ہے۔ درویش، سچا، کھرا اور دین کا درد رکھنے والا حکمران‘‘۔
پہلے مسلم افواج کی شہرت دنیا حتیٰ کہ بحر ظلمات میں شاندار مہمات سر کرنا تھیں اب کنٹرول لائن پر تصویریں کھنچوانا فوجی مہمات سر کرنے کا متبادل ہے۔ بھارت کی سات لاکھ فوج نے ساٹھ دن سے مقبوضہ کشمیر کو دنیا کا سب سے بڑا قید خانہ بنا رکھا ہے لیکن ہم جنرل اسمبلی کے ہائیڈ پارک میں دل کی بھڑاس نکال کر یوں خوش ہیں جیسے دولت کونین پاگئے ہیں اور ہمارے معروف علماء کرام یوں شاد جیسے حکمرانوں نے اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا کوئی حکم با کمال پورا کردیا۔ ہماری سول اور فوجی قیادت مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے کبھی عالمی برادری سے امیدیں وابستہ کررہی ہے کبھی اقوام متحدہ سے۔ کبھی ہم مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے ٹرمپ کے پا س جارہے ہیں جب کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے مسلمانوں کو اس بات کی اجازت نہیں دی کہ وہ کفار کو اپنے معاملات میں کوئی اختیار دیں۔
صاحبو! ممکن ہے ہم نے قرآن اور اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے حکم کو سمجھنے میں کوئی کوتاہی کی ہو ورنہ ہمارے معروف علماء کرام عمران خان کی تعریف وتوصیف کرنے کے بجائے اس کی مذمت کررہے ہوتے۔ ایک حکمران پوری ریاست میں کفر نافذ کررہا ہے لیکن ذاتی زندگی میں نمازی ہے، حج اور عمرے ادا کررہا ہے، مسلمانوں کے باب میں دردمندی کی باتیں کررہا ہے، کفر کے کٹہرے میں کھڑا ہوکر موثر تقریریں کررہا ہے، معروف علماء کرام اس پر صدقے واری جارہی ہیں تو پھر ہمارا بھی اس حکمران کے لیے ہاتھ اٹھانا تو بنتا ہے۔ آئیے ہاتھ اٹھائیں ہم بھی۔۔۔ ہم جنہیں رسم دعا یاد نہیں۔۔۔ وہ جنہیں تاب گراں باری ایام نہیں۔۔۔ ان کی پلکوں پہ شب وروزکو ہلکا کردے۔۔۔ جن کا دیں پیروی کذب وریا ہے ان کو۔۔۔ ہمت کفر ملے جرات تحقیق ملے