آزادی مارچ کے شرکا ء کا کنٹرول لائن کے قریب دھرنا

183

مظفرآباد/سرینگر( خبرایجنسیاں + مانیٹرنگ ڈیسک) جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کے آزادی مارچ کے شرکاء نے کنٹرول لائن کے قریب جسکول کے مقام پر دھرنا دیدیا۔مقامی انتظامیہ نے کنٹرول لائن کے مقام سے 6کلومیٹر پہلے کنٹینرز اور خار دار تاریں لگا کر آزادی مارچ کے شرکا کے لیے آگے جانے کا راستہ بند کردیا۔ مقامی انتظامیہ کے درمیان اب تک ہونے والے مذاکرات ناکام ہو چکے ہیں اور جسکول کے مقام پر دھرنا جاری ہے۔مارچ کے شرکا ء کنٹرول لائن عبور کرنے کے لیے آگے بڑھنا چاہتے ہیں مگر کمشنر مظفرآباد امتیاز چودھری کے مطابق سیکورٹی رسک کی بنیاد پر انہیں آگے جانے نہیں دیا جا سکتا۔ مارچ میں ہزاروں افراد موجود ہیں جن کو روکنے کے لیے 1500اہلکار تعینات ہیں۔جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے آزادی مارچ پر جے آئی یوتھ جہلم ویلی متحرک ہوگئی اور ریسکیو سینٹر بھی قائم کیا ،جے کے ایل ایف کے ذمے داران نے جے آئی یوتھ کے ریسکیو سینٹر کا دورہ کیا اور مارچ کے شرکاء کے ساتھ تعاون کرنے پر شکریہ بھی ادا کیا ۔علاوہ ازیں امریکی سینیٹرزکے وفد نے آزادکشمیر کے دارالحکومت مظفر آباد کا دورہ کیا جہاں صدر آزاد کشمیر مسعود خان اور وزیراعظم راجا فاروق حیدر سے ملاقاتیں کیں۔وفد کو کنٹرول لائن اور مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی جانب سے انسانی حقوق کی پامالیوں پر بریفنگ دی گئی ۔ اس موقع پر کشمیری قیادت کی مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کرنے کے لیے بھارت پر دبا ڈالنے کی درخواست کی۔امریکی وفد نے کہا کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں کرفیو ختم کرکے اور سیاسی قیدیوں کو رہا کیا جائے۔ دوسری جانب مقبوضہ کشمیر میں مسلسل 63ویں روز بھی فوجی محاصرہ جاری ہے۔ تمام دکانیں ، کاروباری مراکز ، تعلیمی ادارے بنداورٹریفک کی آمدورفت معطل ہے۔ کشمیرمیڈیا سروس کی مطابق بھارتی حکومت کی طرف سے 5اگست کو جموںوکشمیرکی خصوصی حیثیت ختم کیے جانے کے بعد مقبوضہ علاقے میں پیدا ہونے والا انسانی بحران تیسرے مہینے میں داخل ہوگیا اور معمولات زندگی مسلسل مفلوج ہیں۔ ادھر لندن میں کشمیری عوام سے اظہار یکجہتی اور بھارتی مظالم کی مذمت کے لیے شمع بردار آزادی مارچ کا انعقاد کیاگیا۔ پارلیمنٹ اسکوائر سے بھارتی ہائی کمیشن تک مارچ میں بچوں ، خواتین ، مردوں اورنوجوانوں کی بڑی تعدادنے شرکت کی۔ ادھر بھارت کی تحقیقاتی ایجنسی انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے آل پارٹیز حریت کانفرنس کے اسیر رہنما شبیر شاہ کی جائداد ضبط کرلی۔ کشمیر میڈیا سروس کی رپورٹ کے مطابق ای ڈی کی جانب سے شبیر شاہ کی اہلیہ اور 2 بیٹیوں کو جاری ہونے والے نوٹس میں ان سے راولپورہ میں ان کی رہائش گاہ 10 روز میں خالی کرنے کا حکم دیا گیا۔شبیر شاہ کی اہلیہ بلقیس شاہ اور 2 بیٹیاں سما شبیر اور سحر شبیر کو ستمبر کے آخر میں نوٹس جاری کیا گیا تھا۔علاوہ ازیں نیشنل کانفرنس پارٹی کے وفد کو مقبوضہ جموں و کشمیر میں 2 ماہ سے گرفتار ان کے 2 اعلیٰ رہنماؤں سے ملاقات کی اجازت مل گئی۔ہندوستان ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق پارٹی صدر فاروق عبداللہ اور نائب صدر عمر عبداللہ سے ملاقات سرینگر میں ہوئی۔