مسئلہ کشمیر حل نہ ہوا تو معاملات کسی بھی سطح پر جا سکتے ہیں،وزیراعظم

184

اسلام آباد:وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ مسئلہ کشمیر حل نہ ہوا تو معاملات کسی بھی سطح پر جا سکتے ہیں اور اگر معاملات خراب ہوئے تو دنیا کے لیے پریشانی ہوگی۔

وزیراعظم عمران خان سے پاکستان کے دورے پر آئے امریکی ارکان کانگریس سینیٹرز کرس وان اور میگی حسن نے ملاقات کی۔ ملاقات میں امریکی سینیٹرز کرس وان اور میگی حسن نے وزیراعظم کو آزاد کشمیر کے دورے اور مشاہدے سے آگاہ کیا جبکہ اس موقع پر امریکی ناظم الامور پال جونز بھی موجود تھے۔وزیراعظم نے مسئلہ کشمیرپرتعاون کرنے پرسینیٹرز سے اظہار تشکر کیا۔

اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ جب تک مقبوضہ کشمیر کے حالات بہتر نہیں ہوتے، بھارت سے مذاکرات نہیں ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ  پہلے وہ پاک بھارت مذاکرات کے سب سے بڑے حامی تھے لیکن  مودی نے بھارت کا چہرہ ہی تبدیل کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں جاری لاک ڈاون اور کرفیو بنیادی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے، ادویات اور خوراک کی سنگین قلت بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ بھارت ہندو سپرمیسی کی جانب بڑھ رہا ہے جس کے خطرناک نتائج ہوسکتے ہیں،دونوں ملک ایٹمی طاقت ہیں، معاملات کسی بھی سطح پر جا سکتے ہیں اور اگر معاملات خراب ہوئے تو دنیا کے لیے پریشانی ہوگی اور اب مودی سے بات کرنے کے لئے کوئی اخلاقی صورت نہیں۔

افغان امن عمل پر بات کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ اس پر  مرحلہ وار بات چیت ہونی چاہیے، طالبان چاہتے ہیں کہ امن ہو اور امریکا بھی چاہتا ہے کہ افغانستان میں امن ہو۔

اس موقع پر امریکی سینیٹرز کا کہنا تھا کہ وہ ٹرمپ انتظامیہ پر  کشمیراورافغان امن عمل آگے بڑھانے پرزوردیں گے۔

امریکی سینیٹرز کی آرمی چیف سے ملاقات

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق جی ایچ کیو میں چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ سے امریکی سینیٹر زکرسٹوفر وان ہالین اور میگی حسن نے ملاقات کی ۔ ملاقات کے دوران باہمی دلچسپی اور افغان مفاہمتی عمل اور مسئلہ کشمیر سمیت خطے کی مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا ۔

 آئی ایس پی آر کے مطابق امریکی سینیٹرز نے پاکستان کی خطے کے امن و استحکام کے لئے کی جانے والی کوششوں کو سراہا جب کہ اس دوران آرمی چیف نے مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے تمام ضروریات اور افغانستان کے لئے پاکستان کی امن کوششوں بارے امریکہ کے ادراک اور حمایت کو سراہا ۔ اس دوران دونوں اطراف سے پاکستان اور امریکہ کے درمیان سیکیورٹی تعاون اور مضبوط دو طرفہ تعلقات کی اہمیت پر زور دیا ۔