جج نے مقدمے کا فیصلہ سنانے کے بعد خودکشی کیوں کی؟

369

تھائی لینڈ میں جج نے ایک مقدمے کا فیصلہ دینے کے بعد کمرہ عدالت میں خود کو گولی مار کر اپنی زندگی کا خاتمہ کرلیا۔

یہ واقعہ تھائی لینڈ کے شہر یالا کی مقامی عدالت میں جمعہ کو پیش آیا جہاں جج نے قتل کے مقدمے میں نامزد پانچ افراد کو بری کیا، بعدازاں انہوں نے کمرہ عدالت میں ایک تقریر کی۔ تقریر مکمل کرنے کے بعد جج نے اپنی گن نکال کر خود کو گولی مار دی۔

مذکورہ جج گولی سے شدید زخمی ہوگئے تھے جنہیں فوراً اسپتال منتقل کیا گیا تھا لیکن وہ علاج کے دوران ہلاک ہوگئے۔

جج نے اپنی تقریر میں کیا کہا؟

خودکشی کرنے والے جج نے کمرہ عدالت میں جو تقریر کی اسے فیس بک پر لائیو چلایا گیا جس میں ان کا کہنا تھا کہ “کسی کو بھی سزا دینے سے قبل آپ کو واضح اور معتبر ثبوتوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر آپ کے پاس کوئی ثبوت نہیں ہے تو آپ کسی کو جان بوجھ کر سزا نہیں دے سکتے”۔

انہوں نے مزید کہا کہ “میں یہ نہیں کہتا کہ ان پانچ افراد نے قتل نہیں کیا ہوگا، ہوسکتا ہے انہوں نے ہی قتل کیا ہو، لیکن عدالتی عمل شفاف اور قابل اعتماد ہونا چاہیے”۔

عدالت کے ترجمان کا مؤقف:

یالا کی عدالت کے ترجمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ جج نے ذاتی دباؤ کے تحت خودکشی کی تاہم اس حوالے سے مزید تحقیقات کی جائیں گی۔

جج کی فیس بک پر پوسٹ:

مذکورہ جج نے فیصلے سے قبل فیس بک پر ایک پوسٹ کی تھی جس میں انہوں نے لکھا تھا کہ “مجھ پر یہ دباؤ ڈالا جا رہا ہے کہ میں بغیر ثبوت ان پانچ افراد کو قصوروار ٹھہراؤں”۔ بعدازاں جج نے اس پوسٹ کو ڈلیٹ کردیا تھا۔