بلوچستان حکومت ریکوڈک منصوبہ دوبارہ شروع کیلیے متحرک غیر ملکی کمپنیوں سے رابطے

30

کوئٹہ (صباح نیوز) بلوچستان حکومت نے ریکوڈک منصوبے کو دوبارہ شرو ع کرنے کیلیے کوششیں تیز کردی ہیں۔ منصوبہ بند ہونے سے سیکڑوں افراد بے روزگار ہو چکے ہیں‘حکومت بلوچستان نے ریکوڈک منصوبے کودوبارہ شروع کرنے کیلیے اقدامات شروع کردیے ہیں۔ حکام کے مطابق حکومت بلوچستان نے اس مقصد کے لیے چین سمیت مختلف ممالک کے مائیننگ کمپنیوں سے رابطے شروع کر دیے ہیں۔ ترجمان حکومت بلوچستان لیاقت شاہوانی نے کہاہے کہ ریکوڈک منصوبے سے متعلق کیس ہارنے کی ذمے دار سابق حکومت ہے‘ حکومت پر عاید ہونے والے جرمانے کو کم کرانے کی کوشش کریں گے۔ دوسری جانب ریکوڈک کی بندش اور کیس ہارنے پر حز ب اختلاف کی جانب سے حکومت پر شدید تنقید جاری ہے۔ بلوچستان اسمبلی میں بلوچستان نیشنل پارٹی کے پارلیمانی لیڈر اسمبلی ثنا بلوچ نے کہا ہے کہ ریکوڈک منصوبے میں کبھی بلوچستان اور پاکستان کے مفاد کو ترجیح نہیں دی گئی‘ اربوں ڈالرز کے منصوبے کو کوڑیوں کے مول دے دیا گیا۔ ریکوڈک منصوبہ بند ہونے سے سیکڑوں افراد بے روز گار ہوچکے ہیں۔ ایرانی سرحد کے قریب پاکستان کے علاقے نوکنڈی سے تعلق رکھنے والے شہریوں کا کہنا ہے کہ ریکوڈک بند ہونے سے نہ صرف بے روزگاری میں اضافہ ہوا ہے بلکہ کاروبار زندگی بھی سخت متاثر ہوا ہے۔ واضح رہے کہ عالمی بینک کی ایک عدالت نے رواں سال جولائی میں پاکستان پر تقریباً6 ارب ڈالر جرمانہ عاید کیا تھا جو بلوچستان حکومت نے ادا کر نا ہے۔
ریکوڈک منصوبہ