چندے پر پر پلنے والے مذہب کارڈ استعمال کررہے ہیں،فردوس عاشق

35

لاہور (نمائندہ جسارت/ مانیٹرنگ ڈیسک ) وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات فردوس عاشق اعوان نے جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن پر ہمیشہ ‘مفادات کی سیاست’ کرنے اور ‘دین کو ڈھال’ بنانے کا الزام لگاتے ہوئے کہا ہے کہ پہلے بھی جے یو آئی(ف) نے مذہب کارڈ کو حکومتی بینچوں پر پہنچنے کیلیے استعمال کیا، چند ے پر پلنے والے اب بھی مذہب کارڈ استعمال کر رہے ہیں۔ مولانا فضل الرحمن کشمیری عوام کے زخموں پر مرہم رکھنے کے بجائے مفاد کی سیاست کر رہے ہیں، مولانا کا بیانیہ ذاتی مفادات کیلیے ہے، 22 نمبر بنگلے سے دوری فضل الرحمن کو حکومت مخالف تحریک چلانے پر اکسا رہی ہے، جیلوں میں قید اپوزیشن قیادت مولانا کے کندھوں پر بندوق رکھ کر چلا نا چاہتی ہے، حکومت گرانے اور لاک ڈائون کے ارمان مولانا کے سینے میں دفن ہو جائیں گے، ان کے کہنے پر مدارس کے طلبہ بھی باہر نہیں آئیں گے، اس وقت مولانا کے پاس گیدڑ بھبھکیوں کے علاوہ کچھ نہیں، قوم ان کی خواہشات کی بھینٹ نہیں چڑھے گی، انہیں ناکامی ہوگی، حکومت اپنی مدت پوری کرے گی۔ ان خیالات کااظہار انہوں نے پریس کانفرنس کے دوران کیا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہمارا دھرنا قومی مفاد کے لیے تھا جبکہ فضل الرحمن ریاستی اداروں کے مضبوط ہونے پر احتجاج کررہے ہیں۔ ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ پرامن احتجاج سب کا بنیادی حق ہے‘ تحریک انصاف نے آئین کی حکمرانی‘ اداروں کو بااختیار بنانے اورکرپشن کے خاتمے کیلیے دھرنا دیا تھا‘ فضل الرحمن حکومت کو گرانے کیلیے مدارس کے بچوں کو ڈھال کے طورپراستعمال کرنا چاہتے ہیں‘ عمران خان کا بیانیہ قومی جبکہ فضل الرحمن کا بیانیہ ذاتی مفادات کیلیے ہے‘ جس وقت بھارت معصوم کشمیریوں کیخلاف تمام ہتھکنڈے استعمال کر رہا ہو ایسے وقت میں ملک کو یکجہتی کی ضرورت ہوتی ہے نہ کہ انتشار کی‘اقوام متحدہ میں ملت اسلامیہ کا حقیقی چہرہ متعارف کرانے پر پاکستان عالمی سطح پر کلیدی حیثیت اختیار کر چکا ہے‘ ملک آگے کی طرف بڑھ رہا ہے اور معیشت کے اہداف پورے ہورہے ہیں‘ بلاول اور زرداری کی باتوں میں تضاد ہے یوں لگ رہا ہے کہ اپوزیشن مولاناکے ساتھ چوہے بلی کا کھیل کھیل رہی ہے۔
فردوس عاشق اعوان