بھارت نے امریکی سینیٹڑز کو مقبوضہ کشمیر جانے سے روک دیا

40

نئی دہلی،ملتان(خبر ایجنسیاں)بھارت نے مقبوضہ کشمیر کی موجودہ صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے نئی دہلی جانے والے امریکی سینیٹر کو وادی کا دورہ کرنے سے روک دیا۔واشنگٹن پوسٹ میں شائع رپورٹ کے مطابق امریکی سینیٹر کرس ہولین نے بتایا کہ انہیں رواں ہفتے بھارت کے دورے کے دوران مقبوضہ کشمیر میں جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔کریس ہولین نے کہا کہ وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت کی جانب وادی میں کرفیو اور مواصلات کا نظام معطل ہوئے تیسرا مہینہ شروع ہوگیا۔واضح رہے امریکی سینیٹرز کرس ہولین ان 50 کانگریس ممبران میں شامل ہیں جو مقبوضہ کشمیر میں امن و امان اور بھارتی فوجیوں کے ظلم و ستم سے متعلق اپنے خدشات کا اظہار کرچکے ہیں۔امریکی ریاست میری لینڈ کے ڈیموکریٹ نمائندہ کریس ہولین نے بتایا کہ وہ خود مقبوضہ کشمیر جاکر زمینی حقائق کا جائزہ لینا چاہتے تھے۔نئی دہلی میں اپنے انٹرویو میں امریکی سینیٹر نے بتایا کہ اگر بھارتی حکومت مقبوضہ کشمیر میں کچھ نہیں چھپا رہی تو لوگوں کو وادی کا دورہ کرنے سے روکنے کا کوئی جواز نہیں بنتا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ لوگ اپنی نظروں سے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال کا جائزہ لینا چاہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بھارت اور امریکا مشترکہ اقدار پر بہت بات کرتے ہیں اس لیے ضروری ہے کہ اس معاملے پر شفافیت کا مظاہرہ کیا جائے۔دوسری جانب بھارتی وزارت خارجہ امور کے ترجمان نے امریکی سینیٹر کو مقبوضہ کشمیر میں جانے کی اجازت نہ دینے سے متعلق تبصرہ کرنے سے گریز کیا۔علاوہ ازیںوزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے امریکی سینیٹر کرس وان ہولین کو آزاد کشمیر کے دورے کی دعوت دے دی۔شاہ محمود قریشی اور امریکی سینیٹر کرس وان ہولین نے مشترکہ پریس کانفرنس کی۔ اس دوران وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ امریکی سینیٹر کو بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کے دورے کی اجازت نہیں ملی لیکن ان کے آزاد کشمیر جانے پر کوئی پابندی نہیں ہے۔شاہ محمود نے امریکی سینیٹر کو دورے کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ سینیٹر کرس وان ہولین بھارت سے پاکستان آئے ہیں، وہ چاہیں تو ہم ان کو آزاد کشمیر جانے کی دعوت دیتے ہیں۔اس موقع پر امریکی سینیٹر کرس وان ہولین کا کہنا تھا کہ وزیر خارجہ شاہ محمودقریشی کا شکر گزار ہوں۔انہوں نے بتایا کہ میری کراچی کی پیدائش ہے۔ والد کراچی میں تعینات تھے۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں اس وقت طاقتور حکومت ہے، چاہتے ہیں کہ کشمیر میں قانون کی بالادستی ہو اور انسانیت کا خیال رکھا جائے، بھارت اور پاکستان میں مذاکرات مشکل مرحلہ ہے۔
امریکی سینیٹر