خریدارکا شناختی کارڈ نمبر غلط ہونے سے متعلق سیلزایکٹ میں نرمی

83

اسلام آباد (آن لائن) کاروباری معاملات میں مشکلات دور کرنے کے لیے حکومت نے سیلز ٹیکس ایکٹ کے تحت خریداروں کا قومی شناختی کارڈ نمبر غلط ہونے کو جرم ٹھہرانے والے قانون میں نرمی کردی‘حکومت نے مینوفیکچررز اور سپلائرز کے پاس شناختی کارڈ چیک کرنے کے لیے کوئی طریقہ کارنہ ہونے پر اقدام کیا ہے۔ مینوفیکچررز اور سپلائرز کی جانب سے یہ شکایت کی جا رہی تھی کہ فنانس بل2019ء کے ذریعے سیلز ٹیکس ایکٹ 1990ء میں کی گئی ترمیم کے تحت خریداروں کے شناختی کارڈ اور نیشنل ٹیکس نمبر (این ٹی این)غلط ہونے کو قابلِ سزا اور مستحق جرمانہ قرار دے دیا گیا ہے۔ شکایت کنندگان کا اصرار تھا کہ ان کے پاس ایسا کوئی طریقہ کار موجود نہیں جس سے یہ معلوم کیا جاسکے کہ خریدار نے جعلی یا کسی اور کا شناختی کارڈ دکھایا ہے۔ ایف بی آر نوٹیفکیشن کے مطابق غیر رجسٹرڈ افراد کو قابلِ ٹیکس اشیا کی فراہمی کے لیے خریدار کا قومی شناختی کارڈ یا این ٹی این نمبر فروخت کنندہ کو بتانا ہوگا۔ دوسری جانب ایف بی آر نے صنعتی اور کمرشل صارفین کو انکم ٹیکس کے لیے رجسٹریشن کروانے کے لیے15 اکتوبر سے مہم شروع کرنے کا اعلان کردیا۔