غزہ میں اسرائیلی فائرنگ سے نوجوان شہید‘ 54 زخمی

67

مقبوضہ بیت المقدس (انٹرنیشنل ڈیسک) فلسطین کے علاقے غزہ کی پٹی میں اسرائیلی فوج کی فائرنگ کے نتیجے میں ایک فلسطینی نوجوان شہید اور 54 شہری زخمی ہو گئے۔ غزہ میں وزارت صحت کے مطابق جمعہ کے روز غزہ میں حق واپسی ریلیوں کے دوران اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے 28 سالہ علاء نزار حمدان شہید ہوگیا۔ مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق غزہ کے مشرقی علاقوں میں ہونے والے مظاہروں کے دوران اسرائیلی فوج نے طاقت کا وحشیانہ استعمال کیا، اس دوران طبی عملے کے 4 کارکنوں سمیت درجنوں فلسطینی براہ راست گولیاں لگنے اور آنسوگیس کی شیلنگ سے زخمی ہوئے۔ عینی شاہدین کے مطابق قابض فوج نے جنوبی غزہ میں حق واپسی تحریک کے 77 ویں جمعہ کو مظاہرین پر آنسوگیس کی شیلنگ اور فائرنگ کے لیے دھاتی گولیوں کا استعمال کیا۔زخمیوں میں سے بعض کو تشویشناک حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔ غزہ کی پٹی میں فلسطینی مظاہرین کی حق واپسی تحریک 30 مارچ 2018ء سے جاری ہے اور اس کے آغاز سے اب تک 324 فلسطینی شہید اور 31 ہزار سے زائد زخمی ہو چکے ہیںعلاوہ ازیں قابض اسرائیلی فوجیوں نے مقبوضہ بیت المقدس کے شمال مشرق میں العیسویہ گاؤں میں 2 فلسطینی نوجوانوں کو گرفتار کرلیا، جن عمریں تقریباً 20 سال ہیں۔ دریں اثنا قابض فوج نے الخلیل میں ایک اور فلسطینی شہری کے گھر پر چھاپا مارا اور اسے تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد گرفتار کر لیا۔