ایف بی آر کے سربراہ کا اعتراف

239

ایف بی آر کے سربراہ شبر زیدی نے انکشاف کیا ہے کہ پاکستانیوں کے 100 ارب ڈالر بیرون ملک ہونے کا تاثر بالکل غلط ہے ۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ پاکستان سے بیرون ملک بھیجی گئی رقوم واپس لانے کا کوئی طریقہ نہیں ہے ۔ شبر زیدی کا یہ انکشاف وزیر اعظم عمران خان اور ان کی پارٹی تحریک انصاف کے بیانیے کے قطعی برعکس ہے ۔ تحریک انصاف نے اپنی انتخابی مہم چلائی ہی اس نکتے پر تھی کہ پاکستان سے لوٹ مار کرکے پیسہ بیرون ملک بینکوں میں رکھا گیا ہے ۔ تحریک انصاف کے رہنما اور عمران خان کے خاص الخاص معاون مراد سعید کی وہ تقریر تو انتہائی مشہور ہوئی تھی جس میں مراد سعید نے کہا تھا کہ بیرون ملک پاکستان سے لوٹی گئی رقم دوسو ارب ڈالر ہے ۔ عمران خان منتخب ہوتے ہی یہ رقم ملک واپس لائیں گے ۔ اس میں سے ایک سو ارب ڈالر قرض کی مد میں ادا کرکے فوری طور پر ملک کو قرض خواہوں سے نجات دلائی جائے گی جبکہ بقیہ ایک سو ارب ڈالر سے ملک میں ترقیاتی کام کروائے جائیں گے ۔ شبر زیدی نے کہا ہے پاکستان سے جو بھی رقم باہر گئی اس میں سے 85 فیصد رقم قانونی طریقے سے گئی ہے ، اس لیے اس رقم کو ملک میں واپس لانے کا کوئی طریقہ نہیں ہے ۔ ایف بی آر کے سربراہ نے یہ بھی اعتراف کیا ہے کہ 15 فیصد دولت اب بھی غیر قانونی راستے سے باہر جارہی ہے ۔اس سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ عمران خان کی حکومت بھی ملک میں لوٹ مار کو روکنے میں ناکام رہی ہے اور لوٹ کی رقم کی بیرون ملک منتقلی کو بھی نہیں روکا گیا۔ اسے عمران خان کی حکومت کی ناکامی کا اعتراف بھی کہا جاسکتا ہے ۔ شبر زیدی کا یہ بیان درست ہے تو پھر عمران خان کے انتخابی مہم میں کیے گئے دعوے اور وزیر اعظم بننے کے بعد دی جانے والی دھمکیوں کی کیا حیثیت ہے ۔ اس کا مطلب ہے کہ عمران خان نے قوم کے ساتھ مسلسل غلط بیانی کی اور قوم کو گمراہ کیا ۔ زمینی حقائق یہ ہیں کہ عمران خان کے اقتدار سنبھالتے ہی ملک کی معاشی ترقی کو ریورس گیئر لگ گیا ہے ۔ اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ گزشتہ حکومت عوام میں زیادہ مقبول تھی اور عمران خان کے خلاف کوئی سازش کی گئی ہے ۔ یہ عمران خان کے کیے گئے معاشی اقدامات ہیں جنہوں نے تباہی پھیلا کر رکھ دی ہے ۔ عملی طور پر وہ آئی ایم ایف کے ہاتھوں یرغمال ہیں اور آئی ایم ایف نے انہیں زیادہ آمدنی کے حصول کے لیے سیلز ٹیکس سمیت دیگر محصولات میں اضافے کی پٹی پڑھائی ہے ۔ یہ بالکل سونے کا انڈا دینے والی مرغی کو ذبح کرنے جیسی ترکیب ہے جس کا نتیجہ بھی وہی نکلا ہے جو ایسی مرغی کو ذبح کرنے کا نکلا تھا ۔ اس وقت سارے صنعتی یونٹ ایک ایک کرکے بند ہوتے جارہے ہیں ، زراعت کا شعبہ بھی زرعی ادویات اور کھاد مہنگی ہونے کے سبب روبہ زوال ہے ۔ عمران خان نے ڈالر کے مقابلے روپے کی قدر میں کمی کرکے ملک کی معیشت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ۔ اس کے ساتھ ہی غلط اعداد و شمار کے سہارے ملک کے ہر فرد کو چور بنادیا ہے ۔ ہر مرتبہ کہا جاتا ہے کہ محض چند فیصد لوگ ٹیکس دیتے ہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ ملک کا ہر فرد ٹیکس دیتا ہے چاہے وہ پہاڑ پر رہتا ہو یا کسی دورافتادہ جزیرے میں ۔ جہاں تک ٹیکس نہ دینے کی بات ہے تو وہ انکم ٹیکس کی بات ہے ۔ جن لوگوں پر انکم ٹیکس لاگو ہوتا ہے ، ان میں سے بھی 80 فیصد پورا ٹیکس دیتے ہیں ۔ یہ مراعات یافتہ طبقہ ہے جو انکم ٹیکس چوری کرتا ہے مگر انہیں کوئی نہیں پکڑتا ۔ایف بی آر کیوں اعدادو شمار جاری نہیں کرتا کہ پورا شریف خاندان ، بھٹو خاندان وغیرہ کتنا انکم ٹیکس دیتا ہے۔ ریاض ملک اور جہانگیر ترین کتنا انکم ٹیکس دیتے ہیں ۔ ان لوگوں کا انکم ٹیکس تو ان کے ملازمین سے بھی کم ہوتا ہے ۔ انہیں ایف بی آر پکڑنے کے بجائے محض ایک غیر ذمہ دارانہ بیان دے کر پورے کے پورے طبقے کو چور بنادیتی ہے۔ شبر زیدی ہی کا کہنا ہے کہ ملک میں ڈاکٹر اور انجینئر بھی ٹیکس ادا نہیں کر رہے اور نہ ہی زراعت پر ٹیکس دیا جاتا ہے۔ شبر زیدی کو یقینا اس کا علم ہوگا کہ جو ڈاکٹر اور انجینئر سرکاری اور نجی اسپتالوں میں نوکری کرتے ہیں ، ان کا انکم ٹیکس تو متعلقہ اسپتال ہی کاٹ لیتا ہے ۔ انجینئروں کی انتہائی قلیل تعداد ہوگی جو پرائیویٹ کام کرتی ہوگی ، اسی طرح ڈاکٹر بھی نجی پریکٹس پر ہی ٹیکس چوری کرسکتے ہیں مگر جو ڈاکٹر اپنا کلینک کرنے کے بجائے کسی اسپتال میں پریکٹس کرتے ہیں ، ان کا ٹیکس بھی اسپتال کاٹ کر انہیں ادائیگی کرتا ہے ۔ تو پھر کس طرح سے شبر زیدی ایسا غیر ذمہ دارانہ بیان دے کر ان معزز پیشوں سے تعلق رکھنے والے ہر فرد کو چور قرار دے سکتے ہیں ۔ وکیل عمومی طور پر نجی پریکٹس کرتے ہیں اور ان کی آمدنی ناپنے کا کوئی پیمانہ نہیں ہے تاہم ان کے بارے میں بات کرتے ہوئے شبر زیدی تو کیا سب ہی کی جان جاتی ہے کہ بار کونسلیں انتہائی طاقتور ہیں اور وہ انہیں عدالت کے ذریعے سبق سکھانے کی اہلیت رکھتی ہیں ۔ زراعت پر ٹیکس بھی گمراہ کن ہے ۔ زراعت پر کئی ٹیکس پہلے سے عائد ہیں البتہ شبر زیدی یہ ضرور کہہ سکتے ہیں کہ زرعی آمدنی پر بھی انکم ٹیکس عائد ہونا چاہیے ۔ ظاہر سی بات ہے کہ یہ انکم ٹیکس بڑے زمینداروں پر ہی عائد ہوگا مگر ان بڑے زمینداروں کا کلب مضبوط ہے ، اس لیے اس بارے میں کوئی بات نہیں کرتا ۔ اسی طرح درگاہوں سے سجادہ نشینوںکو حاصل ہونے والی اربوں روپے کی آمدنی کے بارے میں بھی کوئی بات نہیں کرتا کہ اسمبلی کے بااثر ارکان ایسے ہی سجادہ نشین ہیں ۔ بہتر ہوگا کہ عمران خان غلط انتخابی مہم چلانے اور عوام کو گمراہ کرنے پر معافی مانگیں اور عوام کو خود ہی درست حقائق سے آگاہ کریں ۔ کیے گئے ٖغلط معاشی اقدامات فوری طور پر واپس لیے جائیں تاکہ ملک کی معیشت دوبارہ سے ترقی کی پٹڑی پر چڑھ سکے ۔ شبر زیدی سمیت تمام ہی سرکاری اہلکاروں اور وزراء ، مشیروں کو غیر ذمہ دارانہ بیانات نہ دینے کا پابند کریں کہ اس سے معاشرے میںخوف و ہراس پھیلتا ہے۔