قال االلہ تعالیٰ و قال رسول اللہ

221

کوئی قوم نہ اپنے وقت سے پہلے ختم ہوئی اور نہ اس کے بعد ٹھیر سکی۔ پھر ہم نے پے در پے اپنے رسول بھیجے جس قوم کے پاس بھی اس کا رسول آیا، اس نے اْسے جھٹلایا، اور ہم ایک کے بعد ایک قوم کو ہلاک کرتے چلے گئے حتیٰ کہ ان کو بس افسانہ ہی بنا کر چھوڑا پھٹکار اْن لوگوں پر جو ایمان نہیں لاتے!۔ پھر ہم نے موسیٰؑ اور اس کے بھائی ہارونؑ کو اپنی نشانیوں اور کھلی سند کے ساتھ فرعون اور اس کے اعیان سلطنت کی طرف بھیجا۔ مگر انہوں نے تکبر کیا اور بڑی دوں کی لی۔ کہنے لگے ’’کیا ہم اپنے ہی جیسے دو آدمیوں پر ایمان لے آئیں؟ اور آدمی بھی وہ جن کی قوم ہماری بندی ہے‘‘۔ (سورۃ المؤمنون:43تا47)
سیدنا علی بن ابی طالبؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرمؐ نے ان سے فرمایا: ’’علی! تین چیزوں میں دیر نہ کرو: نماز کو جب اس کا وقت ہو جائے، جنازہ کو جب آ جائے، اور بیوہ عورت (کے نکاح کو) جب تمہیں اس کا کوئی کفو (ہمسر) مل جائے‘‘۔ (سنن ترمذی) ابوعمرو شیبانی سے روایت ہے کہ ایک شخص نے ابن مسعودؓ سے پوچھا: کون سا عمل سب سے اچھا ہے؟ انہوں نے بتلایا کہ میں نے اس کے بارے میں رسول اللہؐ سے پوچھا تو آپ نے فرمایا: ’’نماز کو اس کے وقت پر پڑھنا‘‘۔ میں نے عرض کیا: اور کیا ہے؟ اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: ’’والدین کے ساتھ حسن سلوک کرنا‘‘۔ میں نے عرض کیا: (اس کے بعد) اور کیا ہے؟ اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: ’’اللہ کی راہ میں جہاد کرنا‘‘۔ (سنن ترمذی)