امریکی سینیٹر کو کشمیر نہ جانے دے کر بھارت کیا چھپانا چاہتا ہے؟ شاہ محمود

44

ملتان (صباح نیوز) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں ایسا کیا ہو رہا ہے جو امریکی سینیٹر کو وہاں جانے کی اجازت نہیں دی گئی؟۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے ملتان میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ امریکی سفیر اور سینیٹر کرس ہالین کو خوش آمدید کہتا ہوں۔ سینیٹر کرس ہالین نے امریکی صدر کو کشمیر کی صورتحال پر خط لکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی حکومت نے امریکی سینیٹر کرس کو مقبوضہ کشمیر جانے کی اجازت نہیں دی اور اب وہ بھارت سے پاکستان آئے ہیں، ہم سینیٹر کرس کو آزاد کشمیر کے دورے کی دعوت دیتے ہیں۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں ایسا کیا ہو رہا ہے جسے بھارت چھپانا چاہتا ہے اور امریکی سینیٹر کو وہاں جانے کی اجازت نہیں دی گئی جبکہ بھارتی حکومت نے غلام نبی فائی کو بھی مقبوضہ کشمیر جانے کی اجازت نہیں دی تھی۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، سینیٹر کرس ہالین اور امریکی سفیر کا کشمیر کے بارے میں مؤقف پر شکریہ ادا کرتا ہوں۔ آج یورپی یونین اور اقوام متحدہ سمیت تمام فورمز پر مسئلہ کشمیر پر بات ہو رہی ہے۔ امریکی سینیٹر کرس ہالین نے کہا کہ دنیا کو سب معلوم ہے جو ایشیا اور کشمیر میں ہو رہا ہے۔ قیام امن کیلیے پاکستان کا کردار قابل ستائش ہے۔ ہم چاہتے ہیں صحافیوں اور سیاستدانوں کو مقبوضہ کشمیر جانے کی اجازت ہو۔ امریکی صدر دونوں ممالک کے مابین بہتر تعلقات کے خواہاں ہیں۔